نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بعض اہم غذائی اجزا کی پوشیدہ کمی بے چینی (Anxiety) اور ذہنی دباؤ کی علامات میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بے چینی کو عموماً نفسیاتی یا جذباتی مسئلہ سمجھا جاتا ہے، لیکن بعض اوقات اس کے پیچھے جسمانی عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق وٹامن ڈی، وٹامن بی 12، فولیٹ، آئرن اور میگنیشیم جیسے ضروری غذائی اجزا کی کمی دماغی صحت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ ماہرین نے نشاندہی کی کہ ان غذائی اجزا کی ناکافی مقدار دماغ میں ایسے کیمیائی مادوں کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے جو موڈ، نیند اور جذباتی استحکام کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق مسلسل تھکن، بے چینی، چڑچڑاپن، توجہ میں کمی اور نیند کے مسائل بعض اوقات غذائی کمی کی علامات بھی ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ایسے افراد جو طویل عرصے سے بے چینی کا شکار ہیں، انہیں اپنی غذائی کیفیت کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔
تحقیق میں زور دیا گیا ہے کہ متوازن غذا، مناسب دھوپ، سبز پتوں والی سبزیاں، دالیں، مچھلی، دودھ اور دیگر غذائیت سے بھرپور اشیا کا استعمال جسم اور دماغ دونوں کی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ غذائی سپلیمنٹس کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ ہر فرد کی ضروریات مختلف ہو سکتی ہیں۔ ان کے مطابق بروقت تشخیص اور مناسب غذائی اصلاح کے ذریعے بعض افراد میں بے چینی کی علامات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
