تائی پے — ٹیکنالوجی کے شعبے کی معروف کمپنی این ویڈیا (Nvidia) نے پیر کے روز ایک انقلابی نیا پروسیسر متعارف کرایا ہے جو آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کی جدید ترین صلاحیتوں کو براہ راست پرسنل کمپیوٹرز اور لیپ ٹاپس میں منتقل کر دے گا۔ اس اقدام کے بعد صارف ہارڈ ویئر مارکیٹ میں این ویڈیا کا مقابلہ اپنی حریف کمپنیوں اے ایم ڈی، انٹیل اور ایپل سے ہو گا۔
تائیوان میں ہونے والی ‘کمپیوٹیکس’ (Computex) کانفرنس سے قبل ایک اہم خطاب میں این ویڈیا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) جینسین ہوانگ نے "آر ٹی ایکس اسپارک” (RTX Spark) نامی پی سی چِپ کا اعلان کیا۔ انہوں نے اس پیش رفت کو مائیکروسافٹ کے ساتھ تین سالہ تعاون کا نتیجہ اور اے آئی دور میں پرسنل کمپیوٹر کو مکمل طور پر نئے سرے سے ڈیزائن کرنے کی سمت میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ تائیوان کی کمپنی میڈیا ٹیک (MediaTek) کے اشتراک سے تیار کردہ یہ چِپ رواں سال خزاں کے موسم میں ڈیل، ایچ پی، لینووو، آسوس، مائیکروسافٹ سرفیس اور ایم ایس آئی سمیت بڑے برانڈز کے لیپ ٹاپس اور کمپیوٹرز میں دستیاب ہو گی، جبکہ ایسر اور گیگا بائٹ کے ماڈلز بعد میں آئیں گے۔
صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پروسیسر کمپیوٹر کے استعمال کے روایتی انداز کو یکسر بدل دے گا کیونکہ اسے کلاؤڈ کمپیوٹنگ (آن لائن سرورز) پر انحصار کرنے کے بجائے براہ راست ڈیوائس پر ہی خودمختار اے آئی ایجنٹس چلانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ بڑے اے آئی ماڈلز کی ٹریننگ کے لیے استعمال ہونے والی چِپس کی مارکیٹ پر مکمل تسلط قائم کرنے کے بعد، این ویڈیا اب تیزی سے ‘انفرینس پروسیسرز’ (Inference Processors) کی مارکیٹ کا رخ کر رہی ہے—یہ وہ چِپس ہیں جو صارفین کے سوالات پر فوری ردعمل دینے اور روزمرہ کے کاموں کو خودکار طریقے سے سرانجام دینے والے ایجنٹس کو طاقت فراہم کرتی ہیں۔
پی سی مارکیٹ کو ہدف بنا کر این ویڈیا اپنے وسیع نیٹ ورک اور اے آئی کی مہارت کے ذریعے ایک بڑی نئی مارکیٹ میں قدم جما رہی ہے، جس نے مارکیٹ کے بڑھتے ہوئے مقابلے کے باعث پریشان سرمایہ کاروں کو بھی حوصلہ دیا ہے۔ اگرچہ اے آئی کمپیوٹرز کے لیے ابتدائی مارکیٹ ردعمل ملا جلا رہا ہے—جہاں ایچ پی نے مضبوط سہ ماہی فروخت کی اطلاع دی وہیں ڈیل کا کہنا تھا کہ مانگ ابتدائی توقعات سے کم رہی—تاہم یہ قدم انڈسٹری کے ایک بہت بڑے جھکاؤ کو ظاہر کرتا ہے۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں نے ‘آر ٹی ایکس اسپارک’ کے آغاز کا موازنہ آئی فون، چیٹ جی پی ٹی یا ڈیپ سیک (DeepSeek) کی آمد جیسے بڑے انقلابات سے کیا ہے اور پیش گوئی کی ہے کہ یہ روایتی ایپلیکیشن پر مبنی کمپیوٹرز کو ایک انتہائی مفید اور ذاتی اے آئی اسسٹنٹ کمپیوٹر میں تبدیل کر دے گا۔
اس اہم اعلان کے بعد وال اسٹریٹ پر زبردست ردعمل دیکھا گیا، جہاں این ویڈیا کے شیئرز میں 4 فیصد اور مائیکروسافٹ کے شیئرز میں 2.7 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اس کی حریف کمپنیوں اے ایم ڈی، انٹیل اور کوالکوم کے شیئرز میں 4.9 سے 8.5 فیصد تک کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
پرسنل کمپیوٹر ہارڈ ویئر پر مقامی طور پر اے آئی ایجنٹس چلانے کی اس حکمتِ عملی کی تائید کوالکوم کے سی ای او کرسٹیانو امون نے بھی کی، جنہوں نے کمپیوٹیکس نمائش سے قبل خطاب کیا۔ امون نے سال 2026 کو ‘ایجینٹک اے آئی’ (Agentic AI) کے لیے ایک اہم موڑ قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ٹیک سیکٹر اب سادہ سوال و جواب کے ٹولز سے آگے بڑھ کر مکمل طور پر خودمختار معاونین کی طرف جا رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس تبدیلی کے بعد ڈیوائس پر ہی کمپیوٹنگ (لوکل ایج کمپیوٹنگ) ناگزیر ہو چکی ہے، کیونکہ موجودہ ڈیوائسز صارف کے احکامات پر چلنے کے لیے بنائی گئی تھیں نہ کہ ہر وقت فعال رہنے والے خودمختار ایجنٹس کے لیے۔
صارفین کے کمپیوٹرز کے علاوہ، ہوانگ نے این ویڈیا کے مجموعی ہارڈ ویئر روڈ میپ پر تفصیلی بات کی اور انکشاف کیا کہ اوپن اے آئی، اینتھروپک اور اسپیس ایکس جیسی بڑی تنظیمیں کمپنی کے نئے "ویرا” (Vera) سینٹرل پروسیسر کو استعمال کرنا شروع کر چکی ہیں۔ ہوانگ کا کہنا تھا کہ ویرا سی پی یو لائن این ویڈیا کے لیے 200 ارب ڈالر کی ایک نئی مارکیٹ کے دروازے کھولے گی اور کمپنی کی مستقبل کی ترقی کا ایک بڑا ذریعہ بنے گی۔
آٹومیشن اور اے آئی کی وجہ سے روزگار کے خاتمے کے حوالے سے پائے جانے والے عالمی معاشی خدشات کو مسترد کرتے ہوئے، ہوانگ نے ان خدشات کو "سراسر بکواس” قرار دیا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس سافٹ ویئر انجینئرز کی ملازمتیں کم کر دے گی۔ انہوں نے دلیل دی کہ یہ ٹیکنالوجی کارکنوں کی پیداواری صلاحیت کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے، جس کے نتیجے میں کمپنیاں نئے سافٹ ویئر پروجیکٹس کو سنبھالنے کے لیے مزید انجینئرز کو ملازمت پر رکھیں گی۔
خطے کی سٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے، تائیوان کے شہر تینان میں پیدا ہونے والے ہوانگ نے تائیوان کو عالمی اے آئی انقلاب کا مرکز قرار دیا اور جزیرے پر سالانہ تقریباً 150 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا۔ تائی پے میوزک ہال میں ان کا یہ ہائی پروفائل خطاب ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب محض دو ہفتے قبل انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ بیجنگ کا دورہ کیا تھا، جہاں ایک اعلیٰ سطح کے کارپوریٹ وفد کے حصے کے طور پر انہوں نے چینی رہنما شی جن پنگ سے ملاقات کی تھی۔
