باندا، اتر پردیش: بھارت کی ریاست اتر پردیش کا ضلع باندا شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے، جہاں حالیہ دنوں میں درجہ حرارت تقریباً 47 سے 48 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ شدید ہیٹ ویو نے معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر کر دیے ہیں اور شہریوں کے لیے دن کے ساتھ رات بھی ناقابلِ برداشت ہو گئی ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق اب صبح اور رات کا فرق ختم ہوتا محسوس ہوتا ہے کیونکہ سورج ڈھلنے کے بعد بھی گھروں، گلیوں اور سڑکوں میں گرمی کی شدت برقرار رہتی ہے۔ دن کے وقت بازار سنسان ہو جاتے ہیں جبکہ مزدور، رکشہ ڈرائیور، دکاندار اور کسان شدید گرمی کے باوجود روزگار کے لیے باہر نکلنے پر مجبور ہیں۔
رپورٹس کے مطابق باندا میں درجہ حرارت تقریباً 48 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد یہ بھارت کے گرم ترین مقامات میں شامل ہو گیا۔ شمالی بھارت کے دیگر علاقوں، جن میں دہلی، ہریانہ اور راجستھان شامل ہیں، میں بھی شدید گرمی اور ہیٹ ویو کی صورتحال دیکھی گئی۔
شدید گرمی کے باعث اسپتالوں میں بخار، پانی کی کمی، چکر، قے، کمزوری اور ہیٹ اسٹروک جیسے کیسز میں اضافہ رپورٹ کیا جا رہا ہے۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی میں لاپرواہی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور پہلے سے بیمار افراد کے لیے خطرہ زیادہ ہے۔
انتظامیہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ دوپہر کے اوقات میں غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں، پانی کا زیادہ استعمال کریں، ہلکے کپڑے پہنیں اور بچوں و بزرگوں کو دھوپ سے بچائیں۔ بعض متاثرہ علاقوں میں اسکولوں کے اوقات بھی تبدیل کیے گئے یا احتیاطی طور پر چھٹیاں دی گئیں۔
ماہرین کے مطابق باندا کی جغرافیائی صورتحال گرمی کی شدت کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ یہ علاقہ بندیل کھنڈ میں واقع ہے، جہاں خشک زمین، کم سبزہ، پانی کی کمی اور زیرِ زمین پانی کی گرتی ہوئی سطح پہلے ہی بڑے مسائل ہیں۔ درختوں کی کمی اور خشک زمین گرمی کو زیادہ جذب کرتی ہے، جس سے علاقہ بھٹی جیسی صورتحال اختیار کر لیتا ہے۔
شدید گرمی نے صرف صحت ہی نہیں بلکہ معیشت کو بھی متاثر کیا ہے۔ بجلی کی طلب بڑھ گئی ہے، پانی کی قلت سنگین ہو رہی ہے اور کھلے آسمان تلے کام کرنے والے افراد کے لیے روزگار کمانا خطرناک بن چکا ہے۔
بھارت میں حالیہ برسوں کے دوران ہیٹ ویو کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، لیکن باندا کی موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ شدید گرمی اب صرف موسمی مسئلہ نہیں رہی بلکہ ایک بڑا انسانی، ماحولیاتی اور صحت عامہ کا بحران بنتی جا رہی ہے۔
