لاہور کے مختلف علاقوں میں عارضی پناہ گاہوں اور کم آمدنی والی بستیوں میں رہنے والے بے گھر خاندان شدید معاشی مشکلات، بنیادی سہولیات کی کمی اور مستقبل کے حوالے سے بڑھتی ہوئی بے یقینی کا سامنا کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ روزگار کے محدود مواقع، مہنگائی اور مناسب رہائش کی عدم دستیابی نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
متاثرین کے مطابق کئی خاندان ایسے ہیں جو نقل مکانی کے بعد مستقل رہائش حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں اور عارضی ٹھکانوں پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خوراک، صحت اور تعلیم جیسی بنیادی ضروریات تک رسائی بھی دن بہ دن مشکل ہوتی جا رہی ہے، جس کے باعث بچوں اور بزرگوں کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔
سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ امدادی سرگرمیوں اور سرکاری معاونت کے باوجود بہت سے متاثرہ افراد خود کو نظرانداز محسوس کرتے ہیں۔ ان کے مطابق بار بار کیے جانے والے وعدوں پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے متاثرہ خاندانوں میں اداروں اور امدادی نظام پر اعتماد کمزور پڑتا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق بے گھر افراد کی بحالی کے لیے صرف ہنگامی امداد کافی نہیں بلکہ طویل المدتی منصوبہ بندی، سستی رہائش، روزگار کے مواقع اور سماجی تحفظ کے مؤثر نظام کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے شفاف اقدامات اور مسلسل رابطہ ناگزیر ہیں۔
انسانی حقوق کے کارکنوں نے حکومت، فلاحی اداروں اور مقامی کمیونٹیز پر زور دیا ہے کہ وہ بے گھر خاندانوں کی فوری ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے لیے پائیدار حل بھی تلاش کریں تاکہ وہ باعزت اور محفوظ زندگی کی طرف واپس لوٹ سکیں۔
