نئی دہلی: بھارت اور امریکا ایک دوطرفہ تجارتی معاہدے کے پہلے مرحلے پر دستخط کے قریب پہنچ گئے ہیں، جبکہ بھارتی وزیرِ تجارت و صنعت پیوش گوئل کا کہنا ہے کہ معاہدہ تقریباً مکمل ہو چکا ہے اور اب صرف حتمی مسودے کی چند باریکیاں باقی ہیں۔
گوئل نے کہا کہ معاہدہ تقریباً 99 فیصد مکمل ہے اور اب بات صرف “کوموں اور فل اسٹاپس” تک رہ گئی ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب امریکی تجارتی وفد نے 2 جون 2026 کو نئی دہلی میں مذاکرات کا تازہ دور شروع کیا، جس کا مقصد پہلے مرحلے کے معاہدے سے پہلے باقی رہ جانے والے نکات کو حتمی شکل دینا ہے۔
مجوزہ معاہدہ دونوں ملکوں کی اس وسیع کوشش کا حصہ ہے جس کے تحت بھارت اور امریکا باہمی تجارت بڑھانا، ٹیرف سے متعلق رکاوٹیں کم کرنا اور کاروباری تعلقات کو زیادہ قابلِ پیش گوئی بنانا چاہتے ہیں۔ دونوں ممالک پہلے ہی 2030 تک دوطرفہ تجارت کو 500 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کر چکے ہیں، جو آسان نہیں ہوگا مگر اس کے لیے مارکیٹ تک بہتر رسائی اور ضابطہ جاتی رکاوٹوں میں کمی ضروری سمجھی جا رہی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مذاکرات کا موجودہ دور 2 سے 4 جون تک جاری رہنا ہے، جبکہ امریکی وفد کی قیادت اسسٹنٹ یو ایس ٹریڈ ریپریزنٹیٹو برینڈن لنچ کر رہے ہیں۔ اس مرحلے میں حکام معاہدے کی حتمی زبان، ٹیرف وعدوں، مارکیٹ رسائی، کسٹمز سہولتوں اور مستقبل کے تجارتی تنازعات سے نمٹنے کے طریقہ کار پر بات کر رہے ہیں۔
بھارت کے لیے یہ معاہدہ صرف تجارتی نہیں بلکہ اسٹریٹجک اہمیت بھی رکھتا ہے۔ امریکا بھارتی مصنوعات اور خدمات کے لیے بڑی منڈی ہے، اور اس معاہدے سے بھارتی برآمد کنندگان کو بہتر رسائی مل سکتی ہے۔ ساتھ ہی یہ معاہدہ ایسے وقت میں دونوں ملکوں کی شراکت داری کو مضبوط کرے گا جب عالمی کمپنیاں چین پر انحصار کم کرنے اور متبادل سپلائی چینز تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
امریکا کے لیے بھی یہ معاہدہ اہم ہے۔ واشنگٹن طویل عرصے سے بھارت کی بڑی صارف مارکیٹ تک زیادہ رسائی چاہتا ہے۔ امریکی مذاکرات کار بھارت سے صنعتی اشیا، زرعی مصنوعات اور دیگر شعبوں میں ڈیوٹیز کم کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ رواں سال کے اوائل میں جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا تھا کہ عبوری انتظام کے تحت بھارت بعض امریکی صنعتی اور زرعی مصنوعات پر ٹیرف کم یا ختم کرے گا، جن میں ٹری نٹس، پھل، سویا بین آئل، وائن اور اسپرٹس شامل ہو سکتے ہیں۔
تاہم حتمی مرحلہ مکمل طور پر آسان نہیں رہا۔ زرعی مصنوعات تک مارکیٹ رسائی بھارت میں ہمیشہ حساس معاملہ رہی ہے، کیونکہ اس کا تعلق کسانوں، دیہی آمدن اور داخلی سیاست سے جڑا ہوتا ہے۔ بھارتی حکومت ایسے کسی بھی فیصلے سے محتاط رہتی ہے جو مقامی زرعی شعبے پر دباؤ ڈال سکے۔
اس کے علاوہ نان ٹیرف رکاوٹیں، کسٹمز طریقہ کار، ریگولیٹری منظوری، ڈیجیٹل تجارت اور صنعتی پالیسی جیسے معاملات بھی مذاکرات میں زیرِ بحث رہے ہیں۔ ایک اور حساس نکتہ امریکا کی سیکشن 301 تحقیقات کا استعمال بتایا جا رہا ہے، جس کے تحت واشنگٹن مبینہ غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے۔ بھارت اس حوالے سے وضاحت چاہتا ہے کہ نئے معاہدے کے بعد ایسے اقدامات کا اطلاق کس طرح ہوگا۔
اس کے باوجود پیوش گوئل کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ملک بڑے اختلافات سے آگے نکل چکے ہیں۔ جب کوئی وزیر یہ کہے کہ اب بات صرف punctuation تک رہ گئی ہے، تو اس کا مطلب یہی لیا جاتا ہے کہ سیاسی اور بنیادی تجارتی نکات تقریباً طے ہو چکے ہیں، اب قانونی زبان اور عمل درآمد کی تفصیل باقی ہے۔
پہلا مرحلہ یقیناً تمام تجارتی اختلافات ختم نہیں کرے گا۔ بھارت اور امریکا ماضی میں ٹیرف، ڈیجیٹل قواعد، ویزا سے متعلق معاملات، زرعی رسائی اور صنعتی پالیسی پر اختلافات کا سامنا کر چکے ہیں۔ مگر ایک ابتدائی معاہدہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد بحال کرنے اور اگلے مرحلوں کے لیے فریم ورک بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
اس معاہدے کی ٹائمنگ بھی اہم ہے۔ دنیا بھر کی کمپنیاں اپنی مینوفیکچرنگ اور سپلائی چینز کو متنوع بنا رہی ہیں، جبکہ بھارت خود کو ایک سنجیدہ متبادل پیداواری مرکز کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ امریکا کے ساتھ تجارتی انتظام بھارت کے اس مؤقف کو تقویت دے سکتا ہے، خاص طور پر الیکٹرانکس، فارماسیوٹیکلز، ٹیکسٹائل، انجینئرنگ مصنوعات اور ٹیکنالوجی سروسز جیسے شعبوں میں۔
فی الحال نئی دہلی کا پیغام واضح ہے: معاہدہ تقریباً تیار ہے۔ اگر موجودہ مذاکرات میں باقی نکات طے پا گئے تو بھارت اور امریکا جلد پہلے مرحلے کے تجارتی معاہدے کا اعلان کر سکتے ہیں، جسے دونوں ممالک ایک بڑے اقتصادی تعلق کی طرف عملی قدم کے طور پر پیش کریں گے۔
