حزب اللہ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان ثالثی کے ذریعے طے پانے والی جنگ بندی کی حالیہ تجویز کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔ اس فیصلے سے خطے میں جاری کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور سفارتی کوششوں کا تسلسل ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔ تنظیم کی قیادت نے منگل کی رات واضح کیا کہ تجویز کردہ شرائط — جن میں فوجوں کا مرحلہ وار انخلا اور اقوام متحدہ کی موجودگی کو مضبوط بنانا شامل تھا — موجودہ صورتحال میں ناقابل قبول ہیں۔ یہ انکار امریکی قیادت میں گزشتہ ایک ہفتے سے جاری سفارتی کوششوں کے لیے بڑا دھچکا ہے۔ مذاکرات کاروں کو امید تھی کہ دونوں فریقین کی بڑھتی ہوئی تھکاوٹ کو دیکھتے ہوئے کوئی درمیانی راستہ نکل آئے گا، لیکن حزب اللہ کا اصرار ہے کہ اسرائیلی فضائی حملے مکمل طور پر بند ہونے تک کسی بھی قسم کی فوجی تعیناتی پر بات نہیں ہوگی۔ دوسری جانب تل ابیب کے لیے یہ شرط کسی صورت قابل قبول نہیں۔ اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ نے اعلان کے فوراً بعد ہنگامی اجلاس بلایا اور اشارہ دیا کہ اب آپریشنز کی شدت میں دوبارہ اضافہ کیا جائے گا۔ اسرائیلی حکومت کا موقف دو ٹوک ہے: کوئی بھی ایسا معاہدہ جو حزب اللہ کو دریائے لیتانی سے پیچھے نہ دھکیلے، ان کے لیے ناقابل قبول سیکیورٹی رسک ہے۔ زمینی حقائق تشویشناک ہیں۔ وادی بیکا اور بیروت کے جنوبی مضافات میں رات بھر ہونے والے فضائی حملوں سے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے اور ہزاروں شہری نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ مقامی ہسپتال زخمیوں کی بڑی تعداد کو سنبھالنے میں مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ جاری ناکہ بندی کے باعث طبی آلات اور ضروری ادویات کی فراہمی کا نظام شدید دباؤ میں ہے۔ بیروت میں موجود سفارتی ذرائع کے مطابق، تنازع کی بنیادی وجہ لبنانی مسلح افواج (LAF) کا کردار ہے۔ حزب اللہ کا ماننا ہے کہ LAF کے اختیارات میں توسیع دراصل بین الاقوامی نگرانی کے بہانے ان کے جنگجوؤں کو غیر مسلح کرنے کی ایک کوشش ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ محض سرحدی استحکام کے لیے نہیں، بلکہ ان کی عسکری صلاحیت کو کم کرنے کا منصوبہ ہے۔ شمالی اسرائیل اور جنوبی لبنان کے رہائشیوں کے لیے، مذاکرات کی ناکامی کا مطلب ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر راکٹ باری اور جوابی گولہ باری کا سلسلہ فی الحال رکتا دکھائی نہیں دیتا۔ سرحد پر فریقین نے مورچے مضبوط کر لیے ہیں اور خطہ کسی بھی وقت مزید بڑے تصادم کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ سفارتی حل کے دروازے بند ہونے کے بعد اب سوال یہ نہیں کہ لڑائی بڑھے گی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ یہ کشیدگی کہاں تک جائے گی اور کیا کوئی فریق کسی سمجھوتے پر آمادہ بھی ہوگا یا نہیں۔ فی الحال، سرحدوں پر صرف بارود کی زبان بول رہی ہے۔
