گہرا مراقبہ صرف ذہنی سکون کا عمل نہیں بلکہ اس کے دوران جسم، دماغ اور اعصابی نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔ جب انسان گہری مراقبہ کی حالت میں جاتا ہے تو جسم "تناؤ” (stress) سے نکل کر "آرام اور بحالی” (relaxation) کی حالت میں آ جاتا ہے۔
🧠 دماغ کی سرگرمی میں کمی
مراقبہ کے دوران دماغ کے اُس حصے کی سرگرمی کم ہو جاتی ہے جو زیادہ سوچنے، پریشانی اور خود کلامی (self-talk) سے متعلق ہوتا ہے۔ اس سے ذہن زیادہ پرسکون اور واضح محسوس ہوتا ہے۔
❤️ اسٹریس ہارمون میں کمی
جسم میں کورٹیسول (cortisol) نامی ہارمون کی سطح کم ہو جاتی ہے، جو تناؤ اور بے چینی کا باعث بنتا ہے۔ اس کمی سے ذہنی دباؤ، بلڈ پریشر اور گھبراہٹ میں کمی آ سکتی ہے۔
🫁 دل کی دھڑکن اور سانس سست ہو جاتے ہیں
گہری مراقبہ کے دوران جسم کا اعصابی نظام "ریسٹ اینڈ ڈائجسٹ” حالت میں آ جاتا ہے، جس سے دل کی دھڑکن سست اور سانس گہرا اور باقاعدہ ہو جاتا ہے۔
🔄 جسم کی مرمت کا عمل بہتر ہوتا ہے
جب جسم تناؤ سے آزاد ہوتا ہے تو وہ اپنی توانائی مرمت اور شفا کے عمل پر لگاتا ہے، جس سے نیند بہتر ہو سکتی ہے اور مدافعتی نظام مضبوط ہو سکتا ہے۔
🧬 دماغ میں طویل مدتی تبدیلیاں
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ باقاعدہ مراقبہ کرنے والے افراد کے دماغ کے کچھ حصے زیادہ مضبوط ہو سکتے ہیں، خاص طور پر وہ حصے جو توجہ اور جذبات کو کنٹرول کرتے ہیں۔
🌿 مجموعی اثر
سادہ الفاظ میں، گہرا مراقبہ جسم کو "لڑو یا بھاگو” (fight or flight) کی حالت سے نکال کر سکون اور بحالی کی حالت میں لے آتا ہے۔
