دادو میں منگل کے روز درجہ حرارت 48 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا، جس کے ساتھ ہی یہ شہر ملک کا گرم ترین مقام بن گیا۔ سندھ کے بیشتر علاقوں میں گزشتہ 72 گھنٹوں سے جاری ہیٹ ویو نے معمولاتِ زندگی درہم برہم کر دیے ہیں اور فی الحال موسم میں بہتری کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔
گرمی کی شدت صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں۔ دادو کے بازار صبح دس بجے کے بعد ہی ویران ہو جاتے ہیں۔ مقامی ہسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک اور پانی کی کمی کے شکار مریضوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ان میں زیادہ تر وہ مزدور یا موٹر سائیکل سوار ہیں جنہیں مجبوری میں دھوپ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ایک مقامی دکاندار نے بتایا کہ دوپہر کی تپش سے بچنے کے لیے انہوں نے اپنی دکان جلد بند کر دی، "ہوا کسی بھٹی کی طرح جل رہی ہے، پنکھے بھی صرف گرم ہوا پھینک رہے ہیں۔”
محکمہ موسمیات کے مطابق علاقے پر ہائی پریشر کا ایک نظام موجود ہے جو سمندری ہواؤں کو اندرونِ سندھ داخل ہونے سے روک رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دادو، جیکب آباد اور لاڑکانہ میں درجہ حرارت اگلے 48 گھنٹوں تک اسی سطح پر برقرار رہ سکتا ہے، جس کے پیشِ نظر شہریوں کو براہِ راست دھوپ میں نکلنے سے منع کیا گیا ہے۔
اس گرمی نے بجلی کے نظام پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ گھروں میں کولرز اور پنکھوں کے مسلسل استعمال کے باعث غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ طویل ہو گیا ہے۔ جن گھروں میں سولر سسٹم یا جنریٹرز کی سہولت موجود نہیں، وہاں کے رہائشی شدید حبس اور گرمی میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ نے سرکاری عمارتوں میں عارضی کولنگ سینٹرز تو قائم کیے ہیں، لیکن متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے سامنے یہ انتظامات ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹروں نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں اور گھر سے نکلتے وقت سر کو گیلے کپڑے سے ڈھانپ کر رکھیں۔
