MediaHydeMediaHyde
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Font ResizerAa
MediaHydeMediaHyde
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Follow US
© 2026 Media Hyde Network. All Rights Reserved
international

دبئی کا سیاحتی ویزا اب 48 گھنٹوں میں حاصل کرنا ممکن

Last updated: جون 9, 2026 9:11 شام
Mabruka Khan
Share
دبئی کا سیاحتی ویزا اب 48 گھنٹوں میں حاصل کرنا ممکن
دبئی کا سیاحتی ویزا اب 48 گھنٹوں میں حاصل کرنا ممکن
SHARE

Dubai جانے کے خواہشمند افراد اب تیز رفتار پراسیس کے ذریعے صرف 48 گھنٹوں میں سیاحتی ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔

سفری ماہرین کے مطابق درخواست دہندگان کو ویزا حاصل کرنے کے لیے کارآمد پاسپورٹ، پاسپورٹ سائز تصاویر، سفری تفصیلات اور دیگر ضروری دستاویزات جمع کروانا ہوں گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر تمام کاغذات مکمل اور درست ہوں تو ویزا درخواست پر دو دن کے اندر کارروائی مکمل کر لی جاتی ہے۔

حکام نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ صرف لائسنس یافتہ ٹریول ایجنٹس اور منظور شدہ ویزا سینٹرز کے ذریعے درخواست جمع کروائیں تاکہ دھوکہ دہی یا تاخیر سے بچا جا سکے۔ ویزا فیس اور پراسیسنگ کا وقت ویزا کی نوعیت اور مدت کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔

سفری شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ دبئی سیاحت، خریداری اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے دنیا بھر کے مسافروں کی پسندیدہ منزل بنا ہوا ہے، جس کے باعث سیاحتی ویزوں کی طلب میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article قذافی اسٹیڈیم کی پچ کو ‘غیر تسلی بخش’ قرار، آئی سی سی نے ایک ڈی میرٹ پوائنٹ دے دیا
Next Article گلگت بلتستان الیکشن کمیشن کا 5 حلقوں میں دوبارہ پولنگ تک نتائج روکنے کا فیصلہ گلگت بلتستان الیکشن کمیشن کا 5 حلقوں میں دوبارہ پولنگ تک نتائج روکنے کا فیصلہ
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اشتہار

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
WhatsAppFollow
ThreadsFollow
کراچی: ہلکی بارش سے موسم خوشگوار، شہریوں نے سکھ کا سانس لیا
کراچی: ہلکی بارش سے موسم خوشگوار، شہریوں نے سکھ کا سانس لیا
تازہ ترین موسمیات و ماحولیات
جون 15, 2026
وزیرِ اطلاعات کی اپوزیشن کو چارٹر آف اکانومی پر دستخط کی دعوت، مجوزہ بجٹ FY27 کا دفاع
وزیرِ اطلاعات کی اپوزیشن کو چارٹر آف اکانومی پر دستخط کی دعوت، مجوزہ بجٹ FY27 کا دفاع
کاروبار اور تجارت
جون 14, 2026
خیبر پختونخوا: شدید بارشوں سے 7 افراد ہلاک، 33 زخمی
خیبر پختونخوا: شدید بارشوں سے 7 افراد ہلاک، 33 زخمی
تازہ ترین موسمیات و ماحولیات
جون 14, 2026
کراچی میں تیز ہواؤں کا امکان: موسم کا رخ تبدیل
کراچی میں تیز ہواؤں کا امکان: موسم کا رخ تبدیل
تازہ ترین موسمیات و ماحولیات
جون 14, 2026
جنیوا میں جی7 سربراہی اجلاس سے قبل بڑے احتجاجات کا امکان
جنیوا میں جی7 سربراہی اجلاس سے قبل بڑے احتجاجات کا امکان
international
جون 14, 2026
گوادر کی ساحلی پٹی پر نامعلوم ذرائع سے خام تیل کا پھیلاؤ، ماہی گیروں کی روزگار خطرے میں
گوادر کی ساحلی پٹی پر نامعلوم ذرائع سے خام تیل کا پھیلاؤ، ماہی گیروں کی روزگار خطرے میں
تازہ ترین موسمیات و ماحولیات
جون 14, 2026

You Might Also Like

پاکستان کی امن کوششوں کے باعث سفارتی کشیدگی، امارات سے پاکستانی کارکنوں کی بے دخلی کی اطلاعات
internationalتازہ ترین

پاکستان کی امن کوششوں کے باعث سفارتی کشیدگی، امارات سے پاکستانی کارکنوں کی بے دخلی کی اطلاعات

By Ayesha Masood
internationalکھیل

امریکا کا مؤقف: ایران ورلڈ کپ کھیل سکتا ہے، مگر آئی آر جی سی سے منسلک افراد کو داخلہ نہیں ملے گا

By Ayan Ahmed
**میکرون کا لبنان کو اسرائیل سے مذاکرات کی تیاری میں مدد دینے کا اعلان** پیرس — فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے کہا ہے کہ فرانس لبنان کو اسرائیل کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کی تیاری میں مدد دے گا۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سرحدی کشیدگی کے بعد جنگ بندی نہایت نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور سفارتی کوششیں اسے ٹوٹنے سے بچانے کی طرف مرکوز ہیں۔ یہ بات میکرون نے 21 اپریل 2026 کو پیرس میں لبنانی وزیراعظم نواف سلام سے ملاقات کے بعد کہی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ جنگ بندی کو مضبوط کرنے اور جنوبی لبنان کی صورت حال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانا ضروری ہے۔ میکرون کا مؤقف یہ تھا کہ لبنان میں استحکام صرف فوجی دباؤ سے نہیں بلکہ سیاسی اور سفارتی پیش رفت سے ممکن ہے۔ دوسری طرف نواف سلام نے واضح کیا کہ بیروت بات چیت کے راستے کا مخالف نہیں، تاہم لبنان کی خودمختاری، اسرائیلی افواج کے انخلا اور جنگ بندی کی مکمل پاسداری بنیادی شرطیں رہیں گی۔ یوں ابتدا ہی سے یہ واضح ہے کہ مذاکرات کی راہ کھلی تو ہے، مگر آسان نہیں۔ اس پیش رفت کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں براہِ راست بات چیت ہوئی تھی، جسے کئی دہائیوں بعد ایک غیرمعمولی سفارتی قدم قرار دیا گیا۔ اگرچہ ان مذاکرات سے کسی فوری پیش رفت کا اعلان نہیں ہوا، لیکن دونوں فریقوں کا ایک ہی میز پر آنا خود ایک اہم تبدیلی سمجھا جا رہا ہے۔ فرانس اس نئے سفارتی خلا میں اپنے لیے ایک کردار تلاش کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پیرس اس وقت باضابطہ مذاکراتی فریق نہیں، لیکن میکرون نے لبنان کو تکنیکی اور سفارتی سطح پر تیار کرنے کی پیشکش کی ہے۔ فرانس کے لبنان کے ساتھ تاریخی تعلقات ہیں، اور اسی بنیاد پر وہ خود کو ایک مددگار قوت کے طور پر پیش کر رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب علاقائی طاقتیں اور مغربی ممالک جنوبی لبنان کی صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم زمینی حقیقت اب بھی پریشان کن ہے۔ جنگ بندی کو مستحکم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حالیہ مہینوں میں سرحدی جھڑپوں، راکٹ حملوں اور جوابی کارروائیوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ کسی بھی وقت حالات دوبارہ بگڑ سکتے ہیں۔ اسی لیے موجودہ سفارتی رابطوں کو امن معاہدے کی کوشش کے بجائے فوری کشیدگی کم کرنے کی مہم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ فرانس کے لیے یہ معاملہ صرف سفارت کاری تک محدود نہیں رہا۔ جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کے امن مشن سے وابستہ ایک فرانسیسی اہلکار کی حالیہ ہلاکت نے پیرس کی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ فرانس اور اقوام متحدہ کے مشن نے اس واقعے کی ذمہ داری حزب اللہ پر عائد کی، اگرچہ حزب اللہ نے اس الزام کو مسترد کیا۔ اس پس منظر میں میکرون نے یہ اشارہ بھی دیا کہ اگر ضرورت پڑی تو فرانس مستقبل کے کسی امن انتظام میں مدد دینے پر غور کر سکتا ہے۔ لبنانی وزیراعظم نواف سلام کے دورۂ پیرس کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ لبنان کو ممکنہ مذاکرات سے پہلے زیادہ مضبوط سیاسی اور سفارتی حمایت حاصل ہو۔ بیروت چاہتا ہے کہ کوئی بھی بات چیت ایسی نہ ہو جس میں صرف طاقت کا توازن فیصلہ کن بن جائے، بلکہ لبنان کے مفادات اور سرحدی خودمختاری کو بھی واضح تحفظ حاصل ہو۔ ادھر اسرائیل نے ابھی تک فرانس کو مرکزی ثالث کے طور پر قبول کرنے کے آثار نہیں دیے۔ بعض رپورٹس کے مطابق موجودہ رابطہ کاری میں اسرائیل زیادہ تر امریکی کردار کو ترجیح دے رہا ہے، جس کی وجہ سے فرانس کا حصہ فی الحال معاونت تک محدود دکھائی دیتا ہے، براہِ راست ثالثی تک نہیں۔ اس سارے منظرنامے میں ایک بات واضح ہے: سفارتی دروازہ پوری طرح بند نہیں، مگر خطرہ بھی ٹلا نہیں۔ میکرون کی پیشکش دراصل لبنان کو ایک ایسے مرحلے کے لیے تیار کرنے کی کوشش ہے جہاں معمولی پیش رفت بھی بڑی اہمیت اختیار کر سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا یہ سفارتی کوششیں ایک پائیدار فریم ورک میں ڈھلتی ہیں یا پھر سرحدی کشیدگی دوبارہ پورے عمل کو پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ میں اسے چاہیں تو اب **اخباری انداز میں مزید polished اردو ورژن**، **مختصر ویب اسٹوری فارمیٹ**، یا **ہیڈ لائن + سب ہیڈ + لیڈ** کی شکل میں بھی دے سکتا ہوں۔
international

میکرون کا لبنان کو اسرائیل سے مذاکرات کی تیاری میں مدد دینے کا اعلان

By Mabruka Khan
Schools reach out to Canvas hackers as breach hits U.S. classrooms
internationalتعلیم

کینوس ہیکنگ کے بعد امریکی تعلیمی ادارے حملہ آوروں سے رابطے کی کوشش میں

By Mabruka Khan
MediaHyde
Facebook Twitter Youtube Rss Medium

About US

Your instant connection to breaking stories and live updates. Stay informed with our real-time coverage across politics, tech, entertainment, and more. Your reliable source for 24/7 news.

Top Categories
  • تازہ ترین
  • سیاست
  • انٹرٹینمنٹ
  • تعلیم
  • کھیل
  • مذہبی
  • میٹروپولیٹن
  • موسمیات و ماحولیات
Usefull Links
  • Contact Us
  • Disclaimer
  • Privacy Policy
  • Cookies Policy
  • Advertising Policy
  • Terms & Conditions

© 2025 Media Hyde Network. All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?