وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ معاہدے سے پاکستان کی معیشت اور آئندہ مالی سال کے بجٹ پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، تاہم بجٹ تخمینوں میں فوری تبدیلی کرنا ابھی “بہت قبل از وقت” ہوگا۔
رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں وزیر خزانہ نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے سے تیل کی قیمتوں، مہنگائی اور علاقائی تجارتی راستوں میں استحکام آ سکتا ہے، جس سے پاکستان کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ توانائی کے شعبے اور سپلائی چینز کو مکمل بحال ہونے میں وقت لگے گا۔
محمد اورنگزیب نے کہا، “مجھے آئندہ سال کے لیے ہمارے تخمینوں میں بہتری کی گنجائش نظر آتی ہے”، لیکن انہوں نے واضح کیا کہ اس مرحلے پر مالی سال 2026-27 کے بجٹ اہداف میں ردوبدل کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ حکومت نے نئے بجٹ میں 4 فیصد معاشی ترقی اور 8.2 فیصد مہنگائی کا ہدف مقرر کیا ہے۔
وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ پاکستان بیرونی قرضوں کے دباؤ کو بہتر انداز میں سنبھالنے کے لیے مزید کمرشل قرضے، پانڈا بانڈز اور یورو بانڈز جاری کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔
