دبئی / لندن — امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور سمندری راستوں کو دوبارہ کھولنے کے معاہدے کے بعد، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں کی تعداد گزشتہ دو ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ مانیٹرنگ اداروں نے جمعہ کے روز اس غیر معمولی بحالی کی تصدیق کی ہے۔
بحری آمد و رفت پر نظر رکھنے والے ادارے ‘ایکس ایس میرین’ کے ڈیٹا کے مطابق، جمعرات 18 جون کو کل 25 تجارتی مال بردار جہازوں نے اس اہم ترین عالمی تجارتی راستے کو عبور کیا۔ یہ تعداد 18 اپریل کے بعد کسی بھی ایک دن میں گزرنے والے جہازوں کی سب سے بڑی تعداد ہے، جو جون کے ابتدائی دس دنوں کے روزانہ کی اوسط کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہے۔
یاد رہے کہ رواں سال 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے بعد ایرانی افواج نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا، جس کے بعد اس علاقے میں تجارتی جہازوں پر درجنوں حملے رپورٹ ہوئے۔ امن کے دنوں میں اس عالمی گزرگاہ سے روزانہ تقریباً 120 بحری جہاز گزرتے تھے، اور دنیا کی کل ضرورت کا پانچواں حصہ (20 فیصد) خام تیل اور مائع قدرتی گیس اسی راستے سے سپلائی کی جاتی ہے۔ تاہم، جنگ کے باعث مارچ سے اب تک یہاں روزانہ اوسطاً صرف 7 جہاز ہی گزر پا رہے تھے۔
تکنیکی ماہرین کا کہنا ہے کہ جمعرات کو گزرنے والے جہازوں کی اصل تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ بہت سے جہاز حملوں کے ڈر سے اپنے خودکار سگنلز بند کر دیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جمعرات کو خلیج فارس میں سگنل کی خرابی کا سب سے بڑا واقعہ بھی دیکھا گیا جہاں 200 سے زائد جہازوں کے سگنلز بیک وقت متاثر یا تبدیل پائے گئے۔
تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث عالمی معیشت نے سکھ کا سانس تو لیا ہے، لیکن شپنگ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ یہ راستہ ابھی مکمل طور پر محفوظ نہیں ہے۔ بین الاقوامی بحری تنظیم کے مطابق، جنگ کی وجہ سے 500 سے زائد تجارتی بحری جہاز اور تقریباً 11,000 ملاح اب بھی خلیج فارس میں پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر 20,000 سے زائد بحری ملازمین اس تنازع سے براہِ راست متاثر ہوئے۔
اگرچہ 14 جون کو امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل اور کھاد کی قیمتوں میں تیزی سے کمی آئی ہے، لیکن صورتحال اب بھی نازک ہے۔ جمعہ کے دن سوئٹزرلینڈ میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے اگلے دور کے مذاکرات اچانک ملتوی کر دیے گئے ہیں، جبکہ دوسری طرف اسرائیل نے لبنان میں نئے حملوں کا اعلان کیا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک اسرائیل اس امن عمل کا حصہ نہیں بنتا، تب تک خطے میں طویل مدتی استحکام اور محفوظ بحری تجارت کے سوالات برقرار رہیں گے۔
