اسلام آباد: ایک حالیہ آڈٹ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ مالی سال 25-2024 کے دوران مختلف سرکاری اداروں نے تقریباً 3,177 ارب روپے پارلیمنٹ کی پیشگی منظوری کے بغیر خرچ کیے، جس پر مالی نظم و ضبط اور آئینی تقاضوں کی پاسداری سے متعلق سوالات اٹھ گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ اخراجات ضمنی گرانٹس اور دیگر مالیاتی انتظامات کے ذریعے کیے گئے جن کی منظوری فنڈز کے استعمال سے قبل پارلیمنٹ سے حاصل نہیں کی گئی۔ آڈٹ حکام کا کہنا ہے کہ اس طرزِ عمل سے پارلیمانی نگرانی کا نظام متاثر ہوتا ہے اور سرکاری مالیات میں شفافیت کمزور پڑتی ہے۔
آڈیٹرز نے نشاندہی کی کہ ملکی مالیاتی نظام کے تحت اہم سرکاری اخراجات کے لیے پارلیمنٹ کی منظوری ضروری ہے تاکہ عوامی وسائل کے استعمال میں جوابدہی اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اس عمل کو نظرانداز کرنے سے قانون سازوں کی نگرانی اور اخراجات کے مؤثر جائزے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔
آڈٹ حکام نے سفارش کی ہے کہ مالیاتی کنٹرول کو مزید مضبوط بنایا جائے، بجٹ منصوبہ بندی کو بہتر بنایا جائے اور مستقبل میں تمام اخراجات کے لیے ضروری قانونی و پارلیمانی منظوری حاصل کی جائے۔ رپورٹ میں مالیاتی قواعد و ضوابط پر سختی سے عملدرآمد کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
یہ معاملہ اب پارلیمانی کمیٹیوں کے زیر غور آنے کا امکان ہے، جہاں متعلقہ وزارتوں اور اداروں سے ان اخراجات کی وجوہات اور طریقہ کار کے بارے میں وضاحت طلب کی جا سکتی ہے۔ رپورٹ کے بعد مالی شفافیت، احتساب اور سرکاری اخراجات کے نظام پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
