وانا — لوئر ساؤتھ وزیرستان میں منگل کی صبح نامعلوم افراد نے سرکاری پرائمری اسکول برائے بچیاں کو بارودی مواد سے نشانہ بنایا۔ دھماکے سے اسکول کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے۔
واقعہ صبح سویرے پیش آیا جب اسکول میں کوئی موجود نہیں تھا۔ مقامی پولیس کے مطابق دھماکے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم درجنوں طالبات کی تعلیمی سرگرمیوں کا مرکز یہ عمارت اب ملبے کا ڈھیر بن چکی ہے۔
قبائلی اضلاع میں تعلیمی اداروں، بالخصوص بچیوں کے اسکولوں کو نشانہ بنانا ایک پرانا وطیرہ رہا ہے۔ اس حملے نے علاقے میں زیرِ تعلیم بچیوں کا تعلیمی سلسلہ فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔
ایک مقامی رہائشی نے بتایا کہ رات تین بجے کے قریب زوردار دھماکہ سنا گیا۔ جب لوگ جائے وقوعہ پر پہنچے تو عمارت زمین بوس ہو چکی تھی اور حملہ آور فرار ہو چکے تھے۔
سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ تاحال کسی بھی گروپ نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، جو کہ خطے میں سیکیورٹی صورتحال کی ایک پیچیدہ حقیقت ہے۔
خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی سیکیورٹی کشیدگی کے درمیان اسکول کو نشانہ بنانا مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش ہے۔ سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد خاندانوں کو اس بات پر مجبور کرنا ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو اسکول بھیجنا بند کر دیں۔
ضلعی انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات کا یقین دلایا ہے، لیکن والدین میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ اسکول کی تباہی کے بعد اب قریب ترین تعلیمی مرکز کئی میل دور ہے، جہاں تک رسائی مقامی خاندانوں کے لیے ایک بڑا معاشی اور سماجی چیلنج ہے۔
اسکول کا ملبہ آج دوپہر تک وہیں بکھرا رہا، جو اس خطے میں تعلیم کے لیے درپیش خطرات اور غیر یقینی صورتحال کی ایک تلخ یاد دہانی ہے۔
