پرایا / نیویارک — عالمی کپ 2026 میں فٹ بال کی تاریخ کا ایک بڑا الٹ پھیر دیکھنے میں آیا ہے جہاں افریقہ کے مغربی ساحل پر واقع ایک چھوٹا سا جزیرہ نما ملک ‘کیپ ورڈے’ عالمی کپ کے اگلے مرحلے میں پہنچنے والا دنیا کا سب سے چھوٹا ملک بن گیا ہے۔ کیپ ورڈے نے گروپ مرحلے کے اپنے آخری اور فیصلہ کن میچ میں سعودی عرب کے خلاف سخت مقابلے کے بعد میچ صفر صفر سے برابر کر کے اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کر لیا، جس پر دنیا بھر کے فٹ بال حلقوں میں اس ٹیم کی دفاعی حکمتِ عملی کو سراہا جا رہا ہے۔
ٹورنامنٹ کے گروپ مرحلے میں اس چھوٹی سی ٹیم نے غیر متوقع طور پر ناقابلِ شکست رہتے ہوئے اپنے تینوں میچ برابر کیے۔ انہوں نے پہلے میچ میں 2010 کی عالمی چیمپئن اسپین جیسی مضبوط ٹیم کو صفر صفر پر روکا اور پھر دوسرے میچ میں یوراگوئے کے خلاف دو دو گول سے شاندار برابری کھیلی۔ کیپ ورڈے کی اس تاریخی کامیابی میں ان کے 40 سالہ تجربہ کار گول کیپر ‘ووزینیا’ نے دیوار بن کر مرکزی کردار ادا کیا، جنہوں نے اہم مواقع پر حریف ٹیموں کے یقینی گول روک کر اپنی ٹیم کو ٹورنامنٹ میں زندہ رکھا۔ کامیابی کے بعد بات کرتے ہوئے ووزینیا کا کہنا تھا کہ جغرافیائی لحاظ سے ان کا ملک بھلے ہی چھوٹا ہو، لیکن ان کے حوصلے اور خواب بہت بڑے ہیں۔
ٹیم کے ہیڈ کوچ ‘بوبستا’ نے اس تاریخی سنگِ میل پر پوری ٹیم کی کارکردگی پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے کھلاڑیوں نے عالمی اسٹیج پر دنیا کو اپنی حقیقی صلاحیتیں دکھا دی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کامیابی نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر عزم مضبوط ہو تو وسائل اور آبادی کی کمی خوابوں کی تکمیل میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ عالمی کپ کے اگلے مرحلے میں جگہ بنانے کے بعد اب یہ چھوٹی سی ٹیم دنیا بھر کے فٹ بال شائقین کی توجہ کا مرکز بن چکی ہے۔
