کراچی: کورنگی کراسنگ کے علاقے میں منگل کے روز نامعلوم افراد نے تیزاب پھینک کر ایک 25 سالہ خاتون کو شدید زخمی کر دیا۔ متاثرہ خاتون کو فوری طبی امداد کے لیے سول ہسپتال کے برنس وارڈ منتقل کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق خاتون اپنے گھر کی جانب پیدل جا رہی تھی کہ موٹر سائیکل پر سوار دو افراد نے اسے روکا۔ ملزمان نے چہرے اور گردن پر تیزاب پھینکا اور مصروف ترین صنعتی علاقے کی ٹریفک کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہو گئے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق خاتون کی حالت تشویشناک ہے، تاہم ڈاکٹرز نے تاحال انجری کی نوعیت پر حتمی رپورٹ جاری نہیں کی ہے۔
اس واقعے کے بعد علاقے میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔ مقامی رہائشیوں کی بڑی تعداد نے کورنگی انڈسٹریل ایریا تھانے کے باہر جمع ہو کر ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
ہسپتال کے باہر موجود ایک پڑوسی نے کہا، "وہ تو اپنے معمول کے کام سے جا رہی تھی۔ یہ محض جرم نہیں، بلکہ خواتین کو خوفزدہ کرنے کی ایک مذموم کوشش ہے۔”
ایس ایس پی کورنگی نے تصدیق کی ہے کہ واقعے کا مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی متعلقہ دفعات کے تحت درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس فی الحال جائے وقوعہ کے قریب موجود کاروباری مراکز کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر رہی ہے تاکہ ملزمان کی شناخت ممکن ہو سکے۔
ملک میں ‘ایسڈ کنٹرول اینڈ ایسڈ کرائم پریوینشن ایکٹ’ کے باوجود اس طرح کے جرائم میں سزا کی شرح انتہائی کم ہے۔ حکومتی پابندیوں کے باوجود صنعتی گریڈ کا تیزاب مقامی مارکیٹوں میں باآسانی دستیاب ہے، جو ایسے مجرموں کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتا ہے۔
تفتیشی ٹیمیں ابھی تک کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکیں اور نہ ہی یہ واضح ہو سکا ہے کہ آیا یہ کوئی ذاتی دشمنی کا شاخسانہ ہے یا محض دہشت پھیلانے کی کوشش۔ متاثرہ خاندان پولیس کو بیانات ریکارڈ کروا رہا ہے، تاہم انہوں نے میڈیا سے بات کرنے سے گریز کیا ہے اور وہ ہسپتال میں ڈاکٹروں کی جانب سے مزید اپ ڈیٹ کے منتظر ہیں۔
