اوسلو — ایرلنگ ہالینڈ کے 88 ویں منٹ میں کیے گئے گول نے ناروے کو گروپ مرحلے کے ایک اہم میچ میں 1-0 سے فتح دلا دی، جس کے ساتھ ہی ٹیم نے ناک آؤٹ مرحلے کے لیے کوالیفائی کر لیا اور اب ان کا مقابلہ برازیل جیسی مضبوط ٹیم سے ہوگا۔
میچ کا زیادہ تر وقت ڈیڈ لاک کی نذر رہا۔ کھیل کے آخری لمحات میں مارٹن اوڈیگارڈ نے شاندار پاس کے ذریعے ہالینڈ کو موقع فراہم کیا، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نارویجن اسٹرائیکر نے
گیند کو جال میں پہنچا کر اسٹیڈیم میں چھائی کشیدگی کو ختم کر دیا۔

اس جیت نے ناروے کی اگلی منزل کا تعین تو کر دیا ہے، لیکن اب ان کے سامنے ٹورنامنٹ کی فیورٹ برازیل کی ٹیم کھڑی ہے۔ برازیل کا اٹیکنگ لائن اپ اس پورے ٹورنامنٹ میں حریف ٹیموں کے لیے دردِ سر بنا رہا ہے، اور ناروے کا دفاع، جو اب تک اپنی ہمت پر انحصار کرتا آیا ہے، اسے اپنے کیریئر کے مشکل ترین امتحان کا سامنا ہے۔
میچ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہالینڈ نے کہا، "ہم جانتے تھے کہ یہ ایک جسمانی جنگ ہوگی۔ ہم نے اپنے منصوبے پر عمل کیا، اپنی ترتیب برقرار رکھی اور اس ایک لمحے کا انتظار کیا جس سے ہم حریف کو توڑ سکیں۔”
ناروے کے کوچ اسٹالے سولباکن نے ٹیم کی اجتماعی توجہ کو سراہا، حالانکہ وہ آنے والے چیلنج کی سنگینی سے بخوبی آگاہ ہیں۔ ٹیم پر اکثر یہ تنقید ہوتی رہی ہے کہ وہ انفرادی صلاحیتوں پر ضرورت سے زیادہ انحصار کرتی ہے، مگر آج کے میچ میں ان کا ٹیکٹیکل نظم و ضبط واضح تھا۔ انہوں نے گیند پر کنٹرول حریف کو دیا لیکن انہیں دور سے غیر مؤثر شاٹس کھیلنے پر مجبور کیا۔
دوسری جانب، برازیل ناک آؤٹ مرحلے میں ناقابل شکست ہو کر داخل ہو رہا ہے۔ انہوں نے اب تک کمزور ٹیموں کو آسانی سے شکست دی ہے، جس سے ماہرین یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا ناروے کا دفاعی ڈھانچہ وینی سیئس جونیئر اور روڈریگو جیسے کھلاڑیوں کے مسلسل دباؤ کو برداشت کر پائے گا؟
دونوں ممالک کی کرکٹ اور فٹ بال کی تاریخ میں ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ناروے ان چند ٹیموں میں سے ایک ہے جنہوں نے ماضی میں برازیل کو پریشان کیا ہے، اور مقامی میڈیا اس یاد دہانی کو خوب ہوا دے رہا ہے۔
فی الحال ناروے کا کیمپ اپنی ریکوری پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ اگلا مرحلہ یقینی ہے، لیکن برازیل کے خلاف غلطی کی گنجائش صفر ہے۔ پانچ بار کی عالمی چیمپئن کے خلاف ایک لمحے کی غفلت بھی ٹورنامنٹ سے باہر کر سکتی ہے۔
بس کی جانب جاتے ہوئے ہالینڈ نے مختصر مگر پرعزم انداز میں کہا، "ہم وہاں صرف حصہ لینے نہیں جا رہے، ہم وہاں مقابلہ کرنے جا رہے ہیں۔”
