پونے پولیس نے کیتن اگروال کے بہیمانہ قتل میں ملوث ملزمان کے گرد گھیرا تنگ کر دیا ہے۔ تفتیش کاروں نے فرانزک رپورٹس اور شواہد کی بنیاد پر جو تفصیلات جاری کی ہیں، ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ قتل کوئی اچانک پیش آنے والا واقعہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔ ہفتوں سے جاری اس تحقیقات نے آج اس وقت نیا رخ اختیار کیا جب پولیس نے ابتدائی ڈکیتی کے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے قتل کی اصل وجوہات کا خاکہ پیش کیا۔
مقتول کی لاش شہر کے نواحی علاقے سے ملی تھی، جس پر تشدد کے گہرے نشانات موجود تھے۔ فرانزک رپورٹ کے مطابق، یہ زخم کسی ایک جھڑپ کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک ٹارگٹڈ حملے کی کہانی سناتے ہیں۔ پونے کے پولیس کمشنر امتیش کمار نے تصدیق کی ہے کہ قتل کی بنیادی وجہ مالی تنازع تھا، جو کاروبار کے معاملات بگڑنے پر جان لیوا ثابت ہوا۔
ایک تفتیشی افسر نے میڈیا بریفنگ کے دوران مختصر مگر واضح الفاظ میں کہا، "ہم کسی بے ترتیب تشدد کی بات نہیں کر رہے۔ شواہد جس سطح کی منصوبہ بندی کی نشاندہی کر رہے ہیں، وہ واقعی لرزہ خیز ہے۔”
تحقیقات کا رخ اس وقت تیزی سے بدلا جب مقتول کے لیپ ٹاپ سے برآمد ہونے والے انکرپٹڈ پیغامات سامنے آئے۔ ان پیغامات میں کیتن اگروال کو لاپتہ ہونے سے چند دن قبل مسلسل دھمکیاں دی گئی تھیں۔ ان پیغامات اور قریبی انڈسٹریل پارک سے ملنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے پولیس ان تین افراد کی شناخت کرنے میں کامیاب رہی جو وقوعہ کے وقت وہاں موجود تھے۔
دو ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جبکہ ایک اہم ملزم، جسے پولیس نے اگروال کا سابق کاروباری ساتھی قرار دیا ہے، تاحال مفرور ہے۔ پولیس کی ٹیمیں اس کے موبائل سگنلز کا پیچھا کرتے ہوئے مختلف ریاستوں میں چھاپے مار رہی ہیں، تاہم وہ اب تک گرفت میں نہیں آ سکا۔
اگروال کے اہل خانہ کے لیے پولیس کے ان انکشافات کے بعد بھی دکھ کم نہیں ہوا۔ میڈیکل ایگزامینر کی جانب سے بتائی گئی تشدد کی نوعیت—جسے پولیس نے کیس کی حساسیت کے پیش نظر تاحال صیغہ راز میں رکھا ہے—اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ محض ایک کرائے کا قتل نہیں بلکہ ایک گہری ذاتی دشمنی کا نتیجہ ہے۔
مفرور ملزم کی گرفتاری کے لیے آپریشن جاری ہے اور پونے پولیس پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچائے۔ یہ واقعہ اس بات کی تلخ یاد دہانی ہے کہ کس طرح کاروباری تنازعات معمولی نوعیت سے شروع ہو کر انسانی جان کے ضیاع پر ختم ہوتے ہیں۔
عدالت میں اس کیس کی سماعت رواں ہفتے متوقع ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پولیس کی جانب سے اکٹھے کیے گئے ٹھوس شواہد ملزمان کو سزا دلوانے کے لیے کافی ثابت ہوتے ہیں یا نہیں۔
