2015 کا جوہری معاہدہ اب صرف وینٹی لیٹر پر نہیں ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سفارتی طور پر بے اثر ہو چکا ہے۔ واشنگٹن اور تہران کے حکام کبھی کبھار مذاکرات کی بحالی کے اشارے ضرور دیتے ہیں، لیکن زمینی حقائق اور ایرانی جوہری تنصیبات میں ہونے والی پیش رفت اصل معاہدے کی حدود سے بہت آگے نکل چکی ہے۔
بائیڈن انتظامیہ نے اقتدار میں آنے کے بعد معاہدے کی بحالی کو ترجیح دی تھی، مگر یہ عزم ایران کے جوہری افزودگی کے تیز رفتار پروگرام اور دونوں جانب سخت گیر موقف کے سامنے بکھر گیا۔ ایران اب 60 فیصد تک یورینیم افزودہ کر رہا ہے، جو کہ ہتھیاروں کے لیے درکار 90 فیصد معیار کے انتہائی قریب ہے۔ جوہری عدم پھیلاؤ کے ماہرین کے نزدیک یہ اب کوئی مذاکراتی حربہ نہیں، بلکہ ایک ایسی حکمت عملی ہے جس کا مقصد کسی بھی ممکنہ معاہدے کے ختم ہونے کی صورت میں ایران کی پوزیشن کو محفوظ بنانا ہے۔
اس صورتحال کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ ایران کے پاس جوہری بم بنانے کے لیے درکار مواد حاصل کرنے کا وقت (بریک آؤٹ ٹائم)، جو 2015 کے فریم ورک کے تحت ایک سال تھا، اب سمٹ کر چند ہفتوں تک رہ گیا ہے۔ عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے انسپکٹرز کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور انہیں کلیدی تنصیبات تک رسائی محدود کر دی گئی ہے۔ زمینی حقائق تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے مغربی طاقتیں اب تصدیق شدہ ڈیٹا کے بجائے انٹیلی جنس اندازوں پر انحصار کر رہی ہیں۔
تہران کی سوچ میں بنیادی تبدیلی 2018 میں اس وقت آئی جب امریکہ نے یکطرفہ طور پر معاہدے سے علیحدگی اختیار کی۔ اس کے بعد "زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی مہم حکومت گرانے میں تو ناکام رہی، لیکن اس نے ایرانی قیادت کو یہ یقین دلا دیا کہ بین الاقوامی معاہدے عارضی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایران اب اپنے جوہری پروگرام جیسے اہم اثاثے کو ایسی پابندیوں کے خاتمے کے بدلے داؤ پر نہیں لگائے گا جو امریکی انتخابات کے اگلے چکر میں دوبارہ لگائی جا سکتی ہیں۔
دوسری جانب، واشنگٹن اپنی داخلی سیاست کے جال میں پھنسا ہوا ہے۔ کسی بھی "نئے” معاہدے کے لیے امریکی کانگریس کی منظوری درکار ہوگی، جو موجودہ سیاسی تقسیم میں ناممکن نظر آتی ہے۔ اس کا نتیجہ ایک ایسی سفارتی تعطل کی صورت میں نکلا ہے جسے "جاری بات چیت” کا نام دیا جا رہا ہے۔
خطے کی کشیدگی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری "سایہ جنگ” اور روس کے ساتھ تہران کے گہرے ہوتے فوجی تعلقات نے جوہری مسئلے کو ایک بڑے اور خطرناک جغرافیائی سیاسی تنازع کا حصہ بنا دیا ہے۔
2015 کی پوزیشن پر واپسی کا کوئی راستہ باقی نہیں بچا۔ اگر کوئی بچاؤ کی کوشش ہوتی بھی ہے، تو وہ پرانے معاہدے کی بحالی نہیں، بلکہ ایک نیا اور کہیں زیادہ سخت فریم ورک ہوگا جسے تسلیم کرنے کے لیے فی الحال کوئی بھی فریق تیار نہیں۔ تب تک، یہ معاہدہ صرف ایک سفارتی نوادرات کی حیثیت رکھتا ہے، جسے مذاکرات کاروں نے صرف اس لیے زندہ رکھا ہوا ہے کیونکہ ان کے پاس آپشنز ختم ہو چکے ہیں اور وہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں۔
