کراچی: این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے حالیہ داخلہ ٹیسٹ نے سندھ کے سرکاری تعلیمی بورڈز کے نظام کی قلعی کھول دی ہے۔ انٹرمیڈیٹ کے امتحانات میں ’اے ون‘ گریڈ حاصل کرنے والے ہزاروں طلبا یونیورسٹی کا داخلہ ٹیسٹ پاس کرنے میں ناکام رہے، جس سے بورڈز کے جاری کردہ نتائج اور طلبا کی حقیقی تعلیمی قابلیت کے درمیان گہری خلیج واضح ہو گئی ہے۔
اعداد و شمار پریشان کن ہیں۔ صوبے کے مختلف بورڈز سے ٹاپ کرنے والے طلبا کی ایک بڑی تعداد این ای ڈی کے داخلہ ٹیسٹ میں 50 فیصد نمبرز کا کم از کم معیار بھی حاصل نہ کر سکی۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران سندھ کے تعلیمی بورڈز میں نمایاں نمبرز لینے والے طلبا کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، لیکن یونیورسٹی کے سخت معیارات نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ گریڈز محض کاغذوں تک محدود ہیں۔
یونیورسٹی کے ایک تعلیمی مشیر، جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، کہتے ہیں: "ہم طلبا کی ذہانت میں اضافہ نہیں دیکھ رہے، بلکہ گریڈز کی ہیرا پھیری دیکھ رہے ہیں۔ جب کوئی طالب علم بورڈ کے امتحان میں فزکس میں 95 فیصد نمبر لے لیکن ہمارے ٹیسٹ میں بنیادی اصول ہی حل نہ کر سکے، تو قصور طالب علم کا نہیں، اس نظام کا ہے جس نے اسے وہ گریڈ تحفے میں دیا۔”
یہ تضاد صوبائی بورڈز میں ‘گریڈ انفلیشن’ یعنی نمبروں کی مصنوعی بڑھوتری کی نشاندہی کرتا ہے۔ پرچے آؤٹ ہونے، نگرانی کے ناقص نظام اور رٹہ سسٹم پر مبنی مارکنگ نے سندھ بورڈ کی سند کی ساکھ کو کھوکھلا کر دیا ہے۔
والدین کے لیے یہ صورتحال ایک بڑا مالی بوجھ بن چکی ہے۔ بہت سے خاندان اپنے بچوں کو مہنگے کوچنگ سینٹرز میں بھیجتے ہیں تاکہ وہ بورڈ کے امتحانات میں کامیاب ہو سکیں، لیکن این ای ڈی کے نتائج نے ثابت کر دیا ہے کہ بورڈ کے یہ ‘گولڈ سٹینڈرڈ’ نتائج مسابقتی امتحانات میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ کوچنگ سینٹرز پر یہ انحصار ان غریب طلبا کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہا ہے جو اضافی ٹیوشن کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے۔
ماہرینِ تعلیم طویل عرصے سے صوبائی بورڈز کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ وہ نصاب اور جانچ کے طریقوں کو جدید بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ جہاں دنیا بھر میں تنقیدی سوچ اور تجزیاتی صلاحیتوں کو پرکھا جاتا ہے، وہیں سندھ کے بورڈز اب بھی فرسودہ نصاب اور ایسی جانچ کے طریقوں پر کاربند ہیں جو تصورات کو سمجھنے کے بجائے کتابی جملے دہرانے پر نمبر دیتے ہیں۔
یونیورسٹی کا داخلہ ٹیسٹ طلبا کے لیے صرف ایک امتحان نہیں، بلکہ صوبائی حکومت کی تعلیمی معیار برقرار رکھنے میں ناکامی کا ثبوت ہے۔ جب تک بورڈز میں بنیادی ساختی اصلاحات نہیں کی جاتیں اور سیاسی مداخلت ختم کر کے میرٹ پر مبنی شفاف نظام نہیں لایا جاتا، تعلیمی اسناد اور حقیقی قابلیت کے درمیان یہ خلیج بڑھتی رہے گی۔
اس ہفتے ٹیسٹ میں ناکام ہونے والے ہزاروں طلبا کے لیے یہ صرف ایک داخلہ ٹیسٹ کا نتیجہ نہیں تھا۔ یہ اس تلخ حقیقت کا سامنا تھا کہ سندھ میں اب ایک اعلیٰ گریڈ کا مطلب معیاری تعلیم کی ضمانت نہیں رہا۔
