کراچی کے ضلع وسطی میں منگل کی صبح اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل (اے وی ایل سی) کے ساتھ مبینہ مقابلے میں ایک مبینہ کار لفٹر مارا گیا۔ پولیس کے مطابق یہ کارروائی ایک خفیہ اطلاع پر کی گئی جس میں علاقے میں سرگرم گروہ کو ٹارگٹ کیا گیا تھا۔
پولیس افسران کا دعویٰ ہے کہ جب انہوں نے مشتبہ شخص کی گاڑی کو روکنے کی کوشش کی تو اس نے فائرنگ شروع کر دی۔ جوابی فائرنگ کے نتیجے میں ملزم شدید زخمی ہوا اور ہسپتال منتقلی کے دوران دم توڑ گیا۔
اے وی ایل سی کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ "ہم اس گروہ کو کئی ہفتوں سے ٹریس کر رہے تھے۔ یہ گروہ ضلع میں گاڑیوں کی چوری کی متعدد وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔”
کرائم سین پر موجود تفتیشی ٹیموں نے ملزم کے قبضے سے ایک پستول، گولیاں اور رواں ماہ گلشن اقبال سے چوری ہونے والی ایک گاڑی برآمد کر لی ہے۔ پولیس نے شواہد اکٹھے کرنے کے لیے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے، تاہم سوشل میڈیا پر اس پولیس مقابلے کی شفافیت پر سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔
یہ واقعہ کراچی میں گاڑی چوری کرنے والے نیٹ ورکس کے خلاف پولیس مقابلوں کی ایک طویل سیریز کا تازہ ترین حصہ ہے۔ شہر میں اسٹریٹ کرائم کی شرح عوامی غصے کا مرکز بنی ہوئی ہے، جہاں شہری دن دیہاڑے اسلحے کے زور پر گاڑیاں چھینے جانے کی شکایات کرتے نظر آتے ہیں۔
پولیس کا موقف ہے کہ منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے ایسی کارروائیاں ناگزیر ہیں، جبکہ انسانی حقوق کے مبصرین اکثر ایسے مقابلوں میں ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ حکام نے واقعے کی محکمہ جاتی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جو ایسی ہلاکتوں کے بعد معمول کی کارروائی ہے۔
اب تفتیش کا رخ ملزم کے باقی ساتھیوں کی گرفتاری کی جانب مڑ گیا ہے۔ کیا یہ کارروائی شہر میں گاڑی چوری کرنے والے گروہوں کی کمر توڑ سکے گی یا یہ صرف ایک کارندے کا خاتمہ ہے؟ اس کا جواب آنے والے مہینوں کے کرائم ڈیٹا سے ہی مل سکے گا۔
