اسلام آباد — سویڈن نے اینٹی مائیکروبیل مزاحمت کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قیادت کی باضابطہ حمایت کا اعلان کیا ہے۔ یہ پیش رفت جنوبی ایشیا کے اس ملک کی صحت عامہ کی حکمت عملی کو عالمی سطح پر دیکھنے کے انداز میں ایک اہم تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان حالیہ سفارتی رابطوں کے بعد ہونے والی یہ شراکت داری اینٹی بائیوٹکس کے بے جا استعمال کو روکنے پر مرکوز ہے۔ اے ایم آر — یعنی جراثیم کا ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا کر لینا — پاکستان کے صحت کے نظام کے لیے ایک خاموش مگر مہلک بحران بن چکا ہے۔ ادویات کے خود ساختہ استعمال اور ریگولیشن کے فقدان کے باعث پاکستان اب عالمی ادارہ صحت کی نظروں میں ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔
سویڈن، جہاں اینٹی بائیوٹکس کا استعمال دنیا بھر میں سب سے کم شرح پر ہے، اب اپنی ریگولیٹری مہارت اسلام آباد کو منتقل کر رہا ہے۔
ایک سویڈش سفارتی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا: "ہم صرف طبی اعداد و شمار نہیں دیکھ رہے، بلکہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان اپنی سپلائی چین اور فارمیسی کی نگرانی کو کیسے منظم کرتا ہے۔ اگر یہاں کنٹرول سخت ہو جائے تو پورے خطے میں انفیکشن کے پھیلاؤ کا رخ بدل سکتا ہے۔”
اس تعاون کا مقصد پاکستان کے صوبائی ہسپتالوں میں تشخیصی پروٹوکولز کو یکساں بنانا ہے۔ فی الحال، لیبارٹری ٹیسٹ کے بغیر انفیکشن کی تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر اکثر ‘براڈ اسپیکٹرم’ اینٹی بائیوٹکس تجویز کر دیتے ہیں۔ یہ عادت نہ صرف جان لیوا ہے بلکہ عالمی سطح پر ‘سپر بگز’ کے پھیلاؤ کا باعث بھی بن رہی ہے۔
اسلام آباد میں محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ سویڈن کی مدد صرف تکنیکی رہنمائی تک محدود نہیں بلکہ یہ انہیں سیاسی تحفظ بھی فراہم کرتی ہے۔ اینٹی بائیوٹکس کے سخت ضوابط لاگو کرنے پر مقامی فارماسیوٹیکل لابی اور دکانداروں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو بغیر نسخے کے ادویات فروخت کر کے منافع کماتے ہیں۔ ایک ایسے نارڈک پارٹنر کی موجودگی جس کا صحت عامہ کا ریکارڈ بے داغ ہے، وزارتِ صحت کو ان اصلاحات کو آگے بڑھانے کے لیے درکار اخلاقی طاقت فراہم کرتی ہے۔
یہ اقدام مشکلات سے خالی نہیں۔ پاکستان کا دیہی صحت کا ڈھانچہ بکھرا ہوا ہے، اور لائیو سٹاک (مویشیوں) کے شعبے میں اینٹی بائیوٹکس کے استعمال کی نگرانی — جو مزاحمت پیدا کرنے میں ایک بڑا عنصر ہے — موجودہ وسائل کے ساتھ تقریباً ناممکن ہے۔
ان رکاوٹوں کے باوجود، سویڈن کے ساتھ یہ اتحاد ایک نئے رجحان کا اشارہ ہے۔ حکومت اب ردعمل پر مبنی طب سے نکل کر نگرانی پر مبنی نظام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
عام مریض کے لیے اس تبدیلی کے اثرات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوں گے، لیکن عالمی طبی برادری کے لیے، جو ناقابل علاج انفیکشنز کے بڑھتے ہوئے خطرے کو دیکھ رہی ہے، یہ شراکت داری ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔
اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ کاغذ پر موجود یہ پالیسیاں عملی میدان میں کتنی موثر ثابت ہوتی ہیں، اور وزارتِ صحت نجی دوا ساز مارکیٹ پر اپنا اختیار کتنا مضبوط رکھ پاتی ہے۔
