شہر کے مضافاتی علاقے میں بجلی کے متبادل کے طور پر چلائے جانے والے جنریٹر سے نکلنے والی زہریلی گیس کے باعث دو افراد دم توڑ گئے، جبکہ چار افراد کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق واقعہ ایک رہائشی مکان میں پیش آیا۔ متاثرہ خاندان لوڈ شیڈنگ سے بچنے کے لیے کمرے کے اندر جنریٹر چلا کر سو گیا تھا۔ کمرہ بند ہونے کی وجہ سے کاربن مونو آکسائیڈ گیس اندر جمع ہوتی رہی، جس کے نتیجے میں چھ افراد بے ہوش ہو گئے۔
ریسکیو حکام نے اطلاع ملنے پر موقع پر پہنچ کر متاثرین کو ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا۔ ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ چار افراد اب خطرے سے باہر ہیں، تاہم انہیں سانس لینے میں دشواری کے باعث آکسیجن پر رکھا گیا ہے۔
ایک پولیس افسر نے جائے وقوعہ پر میڈیا کو بتایا کہ "کمرے میں وینٹی لیشن کا کوئی انتظام نہیں تھا، اور متاثرین کو گیس کے پھیلاؤ کا اندازہ ہی نہیں ہوا۔”
کاربن مونو آکسائیڈ ایک بے رنگ اور بے بو گیس ہے، جس کی موجودگی کا احساس عام انسان کو نہیں ہوتا۔ بند کمروں میں جنریٹر چلانے سے یہ گیس تیزی سے آکسیجن کی جگہ لے لیتی ہے، جو چند منٹوں میں ہی انسانی جان کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
رواں ماہ ضلع میں یہ دوسرا افسوسناک واقعہ ہے، اس کے باوجود رہائشی علاقوں میں احتیاطی تدابیر کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ پولیس نے واقعے کو حادثاتی قرار دیتے ہوئے قانونی کارروائی مکمل کر لی ہے۔
بجلی کی بندش کے دوران متبادل ذرائع کا استعمال اب ایک مجبوری بن چکا ہے، لیکن حکام بارہا تنبیہ کر چکے ہیں کہ جنریٹر کو ہمیشہ کھلی جگہ پر اور کھڑکیوں یا دروازوں سے کم از کم 20 فٹ دور رکھا جائے۔ انسانی غفلت کے ان واقعات نے ایک بار پھر عوامی سطح پر آگاہی کی ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے۔
