آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی پانچ سالہ مدت اپنے اختتام کی جانب گامزن ہے، جس کے ساتھ ہی مظفرآباد میں سیاسی ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ 2026 کے عام انتخابات محض ایک انتخابی عمل نہیں، بلکہ خطے کے مستقبل کا فیصلہ کرنے والا ایک اہم موڑ ثابت ہوں گے۔
سیاسی میدان میں جاری کشمکش کا مرکز اقتصادی بحران اور عوامی مسائل ہیں۔ بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخ اور گندم کی سبسڈی میں کٹوتی جیسے معاملات نے موجودہ حکومت کے لیے مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ عوام کی بڑھتی ہوئی بے چینی اب انتخابی نعروں سے کہیں زیادہ عملی اقدامات کا مطالبہ کر رہی ہے۔
سیاسی صف بندی
2021 کے انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لیے 2026 کا منظرنامہ یکسر مختلف ہے۔ انتخابی حلقوں میں وفاداریوں کی تبدیلی اور نئی سیاسی صف بندیوں نے کسی بھی جماعت کے لیے سادہ اکثریت کا حصول مشکل بنا دیا ہے۔
دوسری جانب، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) انتخابی میدان میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ حالیہ ضمنی انتخابات اور بلدیاتی پولز کے نتائج نے یہ ثابت کیا ہے کہ حکمران جماعت کے روایتی ووٹ بینک میں دراڑیں پڑ چکی ہیں، جس کا فائدہ اپوزیشن جماعتیں اٹھانے کی حکمت عملی بنا رہی ہیں۔
انتخابی مہم کے بنیادی نکات
اس بار انتخابی مہم کا محور قومی بیانیے کے بجائے مقامی معیشت ہو گی۔ ووٹرز ان تین اہم معاملات پر جماعتوں کی کارکردگی کو پرکھیں گے:
* سبسڈی کا بحران: گندم کی سبسڈی میں کٹوتی نے عوام اور حکومت کے درمیان خلیج پیدا کر دی ہے۔ یہ معاملہ انتخابی مہم کا سب سے گرم موضوع ہوگا۔
* بجلی کے نرخ: نیلم-جہلم جیسے بڑے ہائیڈرو پاور منصوبوں کے قریب ہونے کے باوجود، مقامی باشندے ریکارڈ توڑ بجلی کے بل ادا کر رہے ہیں۔ جو جماعت ان نرخوں میں کمی کا قابلِ عمل منصوبہ پیش کرے گی، اسے عوامی حمایت حاصل ہونے کا امکان ہے۔
* بنیادی ڈھانچہ: نیلم اور حویلی جیسے دور دراز اضلاع میں صحت اور مواصلات کی سہولیات کا فقدان اب بھی ووٹرز کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
انتخابی چیلنج اور زمینی حقائق
آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن کے سامنے ٹرن آؤٹ کو برقرار رکھنے کا چیلنج ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر ووٹرز کو یہ محسوس ہوا کہ بڑی پارٹیاں اقتدار کی تقسیم میں مصروف ہیں اور عوامی مسائل ثانوی حیثیت رکھتے ہیں، تو انتخابی دلچسپی کم ہو سکتی ہے۔
مظفرآباد کے ایک سینئر سیاسی تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ "2026 کے انتخابات محض نعروں سے نہیں جیتے جائیں گے۔ جو جماعت عام آدمی کو معاشی ریلیف کا شفاف روڈ میپ دے گی، وہی ایوان میں اکثریت حاصل کر سکے گی۔”
انتخابات کی تاریخ قریب آتے ہی اب توجہ امیدواروں کے انتخاب پر مرکوز ہو رہی ہے۔ آزاد کشمیر کی انتخابی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں پارٹی منشور سے زیادہ مقامی قبائلی اور برادریوں کے اثر و رسوخ کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اسمبلی کی تحلیل سے قبل موجودہ قیادت پر کارکردگی دکھانے کا دباؤ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔
