کراچی میں مون سون کی بارشوں کا دوسرا سلسلہ منگل کو بھی جاری رہا، جس کے باعث ہلکی اور درمیانی شدت کی بوندا باندی نے شہر کے معمولات کو سست کر دیا۔ اگرچہ بارش کی شدت بہت زیادہ نہیں تھی، لیکن اس نے شہر کے نکاسی آب کے نظام کی خستہ حالی کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق صدر، آئی آئی چندریگر روڈ اور گلشنِ اقبال سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کا جمع ہونا شروع ہو گیا ہے۔ صبح دس بجے کے قریب شروع ہونے والی مسلسل بوندا باندی نے سڑکوں کو پھسلن زدہ بنا دیا، جس کے نتیجے میں شہر کی اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی۔
عام شہری کے لیے اس بارش کا مطلب صرف گھنٹوں کا ٹریفک جام ہے۔ یونیورسٹی روڈ اور شاہراہِ فیصل پر گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں، جبکہ نشیبی علاقوں میں پانی کھڑا ہونے سے پیدل چلنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ برسوں سے نظر انداز کیے گئے انفراسٹرکچر کی وجہ سے نکاسی کا نظام پانی کے بہاؤ کو سنبھالنے میں ناکام رہا۔
شہر کے کاروباری مرکز میں کام کرنے والے محمد رضوان کہتے ہیں، "ہر بار جب بادل گرجتے ہیں، وہی پرانا منظر دہرایا جاتا ہے۔ بارش اللہ کی رحمت ہے، لیکن ہمارے لیے یہ دن کے کئی گھنٹے ضائع ہونے کا نام ہے۔”
بلدیاتی حکام کا دعویٰ ہے کہ مون سون سے قبل نالوں کی صفائی مکمل کر لی گئی تھی، لیکن سرجانی ٹاؤن اور اورنگی جیسے علاقوں کی صورتحال اس کے برعکس ہے۔ وہاں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ نالے اب بھی تعمیراتی ملبے اور کچرے سے بھرے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے بارش کا پانی گھروں میں داخل ہو گیا ہے۔
محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ بارش کا یہ سلسلہ مزید چوبیس گھنٹے جاری رہ سکتا ہے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے شہریوں کو بجلی کے کھمبوں اور سائن بورڈز سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے، تاہم شہر کے پسماندہ علاقوں میں رہنے والے افراد کے لیے یہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا اکثر ممکن نہیں ہوتا۔
فضا میں نمی کا تناسب بڑھ چکا ہے اور بادلوں کا بسیرا برقرار ہے۔ کراچی ایک بار پھر اس موسمی مسئلے کے حل کا منتظر ہے جو ہر سال آتا ہے، لیکن شہر کی انتظامیہ کے لیے اب بھی ایک معمہ بنا ہوا ہے۔
