واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ اور بیرونِ ملک جوہری توانائی کے فروغ، خصوصاً سعودی عرب کے ساتھ سول نیوکلیئر تعاون کے معاہدے کو آگے بڑھانے کے فیصلے نے سیاسی اور اخلاقی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے ٹرمپ کے خاندان اور ان کے بعض قریبی حامیوں کو مالی فائدہ پہنچنے کا امکان موجود ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے حال ہی میں سعودی عرب کے ساتھ ایک طویل المدتی سول نیوکلیئر تعاون کے معاہدے کی منظوری دی ہے، جس کے تحت امریکی کمپنیاں سعودی عرب کے جوہری توانائی پروگرام کی ترقی میں حصہ لے سکیں گی۔ اس معاہدے کو اب امریکی کانگریس میں بھی جانچا جائے گا، جہاں جوہری عدم پھیلاؤ اور مشرقِ وسطیٰ کی علاقائی سلامتی سے متعلق خدشات زیرِ غور آئیں گے۔
یہ معاہدہ ٹرمپ انتظامیہ کی اس وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکہ کی جوہری صنعت کو دوبارہ فعال بنانا، مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی ہوئی بجلی کی ضروریات پوری کرنا، اور امریکی نیوکلیئر ٹیکنالوجی کی عالمی برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔ وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام توانائی کے شعبے میں خود کفالت، روزگار کے نئے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی میں امریکی قیادت کو مضبوط بنائے گا۔
تاہم، نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے قریبی سیاسی و کاروباری حلقے سے وابستہ کئی افراد ایسی کمپنیوں میں سرمایہ کاری رکھتے ہیں جو جوہری صنعت، یورینیم کی پیداوار، ایندھن کی تیاری، جدید ری ایکٹرز اور فیوژن انرجی کے منصوبوں سے منسلک ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کی میڈیا کمپنی نے نیوکلیئر ٹیکنالوجی سے متعلق ایک منصوبے کا اعلان کیا ہے، جبکہ ان کے بعض بیٹے بھی جوہری ایندھن سے وابستہ کمپنیوں میں سرمایہ کاری رکھتے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ صدر ٹرمپ یا ان کے خاندان نے ذاتی مالی فائدے کے لیے سعودی معاہدے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی، تاہم ایسے کاروباری روابط مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ (Conflict of Interest) کا تاثر ضرور پیدا کرتے ہیں۔ ماہرینِ اخلاقیات کے مطابق اس معاملے پر کانگریس اور عوامی نگرانی ضروری ہے تاکہ پالیسی سازی میں شفافیت برقرار رہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری توانائی کی نئی حکمتِ عملی کا مقصد صرف امریکہ کی توانائی کی ضروریات پوری کرنا، بجلی کی طویل المدتی لاگت کم کرنا اور ملک کی تکنیکی برتری کو فروغ دینا ہے۔ انتظامیہ نے مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق تمام دعوؤں کو سیاسی تنقید قرار دیا ہے۔
ادھر سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ معاہدہ بھی سیاسی طور پر حساس معاملہ بن چکا ہے۔ صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ اس معاہدے کی حتمی پیش رفت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا سعودی عرب ابراہم معاہدوں کے تحت اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لاتا ہے یا نہیں۔ اس بیان کے بعد معاہدے کے مستقبل کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی ہے، جبکہ اس کی حتمی منظوری سے قبل امریکی کانگریس اس کا تفصیلی جائزہ لے گی۔
