وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کالعدم تنظیم ’جامع اہل سنت والجماعت‘ (جے اے اے سی) کے احتجاجی مظاہروں میں شامل عسکریت پسند عناصر پر سنگین الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج ملکی استحکام کو نقصان پہنچانے کے لیے غیر ملکی ایجنڈے کے تحت چلایا جا رہا ہے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کے مختلف حصوں میں تنظیم کے احتجاج اور سڑکوں کی بندش سے نظامِ زندگی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ حکومت کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ مظاہرین کے پیچھے بیرونی قوتیں کارفرما ہیں، جن کا مقصد مذہبی مطالبات کی آڑ میں انتشار پھیلانا ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا، "ہمارے پاس معلومات ہیں کہ یہ عناصر خود مختار نہیں ہیں۔ انہیں باہر سے ہدایات مل رہی ہیں تاکہ معیشت کو نقصان پہنچایا جا سکے اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا جائے۔”
حکومت نے تنظیم کو کالعدم قرار دینے کے بعد سیکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ حکام نے پرتشدد کارروائیوں اور اشتعال انگیز تقاریر کا حوالہ دیتے ہوئے کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے۔ وزیر اطلاعات کا موقف ہے کہ ریاست کسی بھی ایسے گروپ کو مذہبی پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہوئے تخریب کاری کی اجازت نہیں دے گی۔
دوسری جانب، حکومتی ناقدین کا کہنا ہے کہ "غیر ملکی ایجنڈے” کا بیانیہ اکثر سیاسی اختلاف کو دبانے اور داخلی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اگرچہ حکومت اسے قومی سلامتی کا معاملہ قرار دے رہی ہے، تاہم سول سوسائٹی کے حلقے سیاسی احتجاج کے دوران انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کے وسیع استعمال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
وزارتِ داخلہ اپنے فیصلے پر قائم ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ احتجاجی مقامات کو خالی کروانے اور تشدد پر اکسانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے تک کارروائی جاری رہے گی۔
فی الحال حکومت کی تمام تر توجہ ٹریفک کی روانی بحال کرنے اور مزید جھڑپوں کو روکنے پر مرکوز ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ حکمت عملی احتجاجی تحریک کو ختم کرنے میں کامیاب ہوگی یا عوامی بے چینی میں مزید اضافہ کرے گی، یہ دیکھنا باقی ہے۔
