کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں منگل کی صبح پولیس اور مبینہ ڈاکوؤں کے درمیان شدید فائرنگ کے تبادلے میں ایک پولیس کانسٹیبل شہید جبکہ دو ڈاکو مارے گئے۔ یہ واقعہ شہر میں بڑھتی ہوئی اسٹریٹ کرائم کی لہر میں ایک اور خونریز اضافہ ہے۔
فائرنگ کا تبادلہ اس وقت شروع ہوا جب اقبال مارکیٹ تھانے کی پولیس ٹیم نے معمول کی گشت کے دوران مشتبہ افراد کو رکنے کا اشارہ کیا۔ پولیس حکام کے مطابق، ملزمان نے رکنے کے بجائے فوراً فائرنگ شروع کر دی، جس سے علاقے میں بھگدڑ مچ گئی اور پولیس نے بھی جوابی کارروائی کی۔
اس جھڑپ کے دوران کانسٹیبل فیصل کو متعدد گولیاں لگیں، جنہیں فوری طور پر عباسی شہید ہسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکے۔ کانسٹیبل کی شہادت نے ایک بار پھر ان خطرات کو نمایاں کر دیا ہے جن کا سامنا شہر میں امن و امان برقرار رکھنے والے جوانوں کو روزانہ کی بنیاد پر کرنا پڑتا ہے۔
پولیس نے تصدیق کی کہ جوابی فائرنگ میں دو ملزمان موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ جائے وقوعہ سے فرار ہونے والے تیسرے ساتھی کی تلاش کے لیے پولیس نے علاقے کی ناکہ بندی کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ پولیس نے ملزمان کے قبضے سے دو پستول، گولہ بارود اور ایک موٹر سائیکل برآمد کی ہے، جس کے بارے میں شبہ ہے کہ اسے شہر میں ہونے والی دیگر وارداتوں میں استعمال کیا گیا تھا۔
یہ علاقہ گزشتہ چھ ماہ سے جرائم پیشہ عناصر کی آماجگاہ بنا ہوا ہے، جہاں شام ڈھلتے ہی شہری خوفزدہ ہو کر گھروں میں محصور ہو جاتے ہیں۔ اہل علاقہ کی جانب سے سیکیورٹی کے ناقص انتظامات پر مسلسل احتجاج کیا جاتا رہا ہے، لیکن عملی اقدامات کے فقدان نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ایس ایس پی ویسٹ نے جائے وقوعہ کا دورہ کرنے کے بعد میڈیا کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے ملزمان سنگین جرائم اور اسٹریٹ کرائم کی متعدد وارداتوں میں مطلوب تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملزمان کی شناخت نادرا اور کرمنل ریکارڈ کے ذریعے کی جا رہی ہے، تاہم ابھی تک ان کے سابقہ ریکارڈ کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
شہریوں کے لیے آج کی یہ صبح ایک بار پھر خوف اور عدم تحفظ کی علامت بن کر ابھری ہے۔ پولیس کی جانب سے گشت بڑھانے کے دعوے اپنی جگہ، لیکن کانسٹیبل کی شہادت یہ ثابت کرتی ہے کہ شہر میں متحرک جرائم پیشہ گروہ نہ صرف جدید اسلحہ سے لیس ہیں بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ کرنے سے بھی گریز نہیں کر رہے۔
ابھی تک فرار ہونے والے تیسرے ملزم کی گرفتاری کے لیے کوئی حتمی ٹائم لائن نہیں دی گئی، تاہم پولیس کی بھاری نفری علاقے کے داخلی اور خارجی راستوں پر تعینات ہے اور تفتیشی ٹیمیں شواہد اکٹھے کرنے میں مصروف ہیں۔
