اسلام آباد — پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسلم گھمن نے دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی کے بانی رواں برس کے اختتام سے قبل جیل سے رہا ہو جائیں گے۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران اسلم گھمن کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بانی پی ٹی آئی کی قانونی اور سیاسی جنگ فیصلہ کن موڑ پر ہے۔ اگرچہ پی ٹی آئی قیادت ماضی میں بھی کئی بار "جلد رہائی” کی نوید سنا چکی ہے، تاہم گھمن کا یہ مخصوص ٹائم لائن دینا پارٹی کے اندر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
سابق وزیراعظم اس وقت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ ان پر ریاستی رازوں کے افشا سے لے کر کرپشن تک کے کئی مقدمات قائم ہیں۔ پارٹی کی قانونی ٹیم ان مقدمات کو سیاسی انتقام قرار دے کر عدالتوں میں چیلنج کر رہی ہے، جبکہ ان کا موقف ہے کہ یہ تمام کارروائیاں انہیں ملکی سیاست سے باہر رکھنے کی کوشش ہیں۔
تاہم، قانونی ماہرین اس دعوے کو احتیاط کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ رہائی کا انحصار اعلیٰ عدالتوں میں زیر التوا ان مقدمات کے فیصلوں پر ہے جن میں اب تک کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے کچھ کیسز میں ریلیف ضرور ملا ہے، مگر مقدمات کی بڑی تعداد کے پیش نظر رہائی کے لیے قانونی محاذ پر ایک طویل اور پیچیدہ کامیابی درکار ہے۔
دوسری جانب حکومتی وزراء اس طرح کے کسی بھی دعوے کو مسترد کرتے ہیں۔ حکومتی مؤقف ہے کہ عدالتیں آزادانہ کام کر رہی ہیں اور بانی پی ٹی آئی کو ان تمام قانونی معاملات کا سامنا کرنا پڑے گا، قطع نظر اس کے کہ سیاسی میدان میں کیا بیانات دیے جا رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کے لیے اس طرح کے بیانات کا مقصد اپنے کارکنوں کو متحرک رکھنا ہے۔ جب تک بانی جیل میں ہیں، پارٹی کی تمام تر توجہ ان کی رہائی پر مرکوز ہے، جسے کارکن اپنی سیاسی بقا کی جنگ سمجھتے ہیں۔
آنے والے مہینوں میں عدالتوں میں ہونے والی سماعتیں اس دعوے کا امتحان ہوں گی۔ کیا اسلم گھمن کی بات حقیقت بنے گی یا یہ صرف سیاسی بیان بازی تک محدود رہے گی؟ اس کا حتمی فیصلہ عدالتی کمروں سے ہی آئے گا، سیاسی جلسوں سے نہیں۔
