چین اب اپنے مقامی مویشی فارمز کو تیزی سے وسعت دے رہا ہے۔ اس حکمت عملی کے پیچھے دو بڑے محرکات ہیں: موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے چیلنجز اور درآمدی گوشت پر عائد بھاری محصولات۔ بیجنگ اب اپنی شمالی چراگاہوں کو بروئے کار لا کر خوراک کے معاملے میں خود انحصاری کے حصول پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔
اس تبدیلی کا مرکز اندرونی منگولیا کا خود مختار خطہ ہے۔ جہاں کبھی روایتی چرواہے خشک سالی اور بے قاعدہ بارشوں کے باعث مشکلات کا شکار تھے، وہاں اب حکومت کی سرپرستی میں صنعتی طرز کے جدید فارمز قائم کیے جا رہے ہیں۔ ان مراکز میں خودکار آبپاشی اور قحط زدہ علاقوں میں اگنے والی فصلوں کے ذریعے گوشت کی پیداوار کو ممکن بنایا جا رہا ہے، جس سے موسمیاتی اتار چڑھاؤ کے اثرات کو کم کیا گیا ہے۔
تجارتی پالیسی اس ترقی کا دوسرا بڑا پہلو ہے۔ مغربی ممالک سے درآمد کیے جانے والے گوشت پر عائد بھاری محصولات نے مقامی پیداوار کو مارکیٹ میں زیادہ منافع بخش بنا دیا ہے۔ بیجنگ کی جانب سے غیر ملکی گوشت کی درآمدات پر سختی نے مقامی فارمرز کے لیے قیمتوں کا ایک ایسا تحفظ فراہم کیا ہے جس سے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
تاہم، اس صنعتی ترقی کی ماحولیاتی قیمت بھی ہے۔ صحرائی خطے میں مویشیوں کی گنجان فارمنگ کے لیے پانی کی بھاری مقدار درکار ہے۔ اگرچہ حکومت اسے "جدید زراعت” قرار دے کر پیش کر رہی ہے، لیکن ماہرینِ ماحولیات کو خدشہ ہے کہ اس وسعت سے خطے کے زیرِ زمین پانی کے ذخائر تیزر رفتاری سے ختم ہو سکتے ہیں۔
زرعی پالیسی کے ایک تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ "چین اب پروٹین سیکیورٹی کو ایک نئی نظر سے دیکھ رہا ہے۔ مقصد صرف سستے داموں گوشت خریدنا نہیں، بلکہ سپلائی چین کو ایک قلعے کی طرح محفوظ بنانا ہے، چاہے اس کے لیے ماحولیاتی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے۔”
اس پیش رفت کے اثرات عالمی منڈیوں پر نمایاں ہیں۔ آسٹریلیا اور برازیل، جو چین کو گوشت فراہم کرنے والے بڑے ممالک ہیں، اب اپنی برآمدات کے مستقبل کے حوالے سے فکرمند ہیں۔ اگر چین اپنی مقامی طلب کا بڑا حصہ خود پورا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو عالمی منڈی میں گوشت کی رسد بڑھ جائے گی، جس سے قیمتوں میں گراوٹ کا امکان ہے۔
فی الحال، یہ منصوبہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ جدید سہولیات سے آراستہ بڑے فارمز روایتی چرواہی کلچر کی جگہ لے رہے ہیں۔ چین یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ گوشت درآمد کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے ملک کے بجائے اب خود کفیل بننا چاہتا ہے۔ کیا یہ زمین اس شدت کی بوجھ اٹھا سکے گی؟ بیجنگ کو یقین ہے کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے وہ اس سوال کا جواب تلاش کر لے گا۔
