ایک خوفناک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں ایک طوفانی بگولے (ٹورنیڈو) کو رہائشی علاقے سے گزرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس دوران بجلی کے کھمبے تنکوں کی طرح ٹوٹ کر ایک چلتی ہوئی کار پر آ گرے۔
یہ واقعہ منگل کی سہ پہر پیش آیا جب ایک طاقتور موسمی سسٹم مضافاتی علاقوں سے ٹکرایا۔ متاثرہ گاڑی کے ڈیش کیم میں ریکارڈ ہونے والی فوٹیج میں آسمان کا رنگ گہرا سبز ہوتا دکھائی دیتا ہے، جس کے بعد ہوا کی رفتار اتنی بڑھ گئی کہ ڈرائیور کو گاڑی کی رفتار انتہائی کم کرنا پڑی۔
گاڑی کے شیشے پر ملبہ پڑتے ہی حدِ نگاہ تقریباً ختم ہو گئی۔ اسی اثنا میں بجلی کی بھاری اور کرنٹ سے بھری تاریں گاڑی کی چھت اور بونٹ پر آ گریں۔
خوش قسمتی سے ڈرائیور اس حادثے میں محفوظ رہا۔ امدادی ٹیموں کا کہنا ہے کہ گاڑی کے ربڑ کے ٹائروں نے انسولیٹر کا کام کیا، جس کی وجہ سے تاروں کے گرنے کے باوجود گاڑی میں موجود افراد کرنٹ لگنے سے بچ گئے۔
متاثرہ ڈرائیور نے جائے وقوعہ پر موجود ریسکیو اہلکاروں کو بتایا، "مجھے تو یہ بھی پتا نہیں چلا کہ کھمبے کب گرے۔ بس ایک زوردار دھماکہ ہوا، چنگاریاں اڑتی دیکھیں اور گاڑی بری طرح ہل گئی۔ میں نے بس بریک پر پاؤں رکھا اور دعا کرتا رہا۔”
بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں نے ایک گھنٹے کے اندر گرڈ سے سپلائی منقطع کر دی، لیکن علاقے کا بڑا حصہ رات گئے تک تاریکی میں ڈوبا رہا۔ تقریباً 5 ہزار صارفین بجلی سے محروم ہو گئے جبکہ مرمتی ٹیموں کو ملبے میں پھنسی تاریں نکالنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
محکمہ موسمیات نے تصدیق کی ہے کہ یہ بگولہ ‘ای ایف-2’ شدت کا تھا جس کی ہواؤں کی رفتار 120 میل فی گھنٹہ سے تجاوز کر گئی۔ طوفان مختصر وقت کے لیے آیا لیکن اپنے پیچھے ٹوٹے ہوئے شیشے، اکھڑے ہوئے درخت اور تباہ حال انفراسٹرکچر چھوڑ گیا۔
یہ ویڈیو اس بات کا ثبوت ہے کہ موسم کا مزاج کتنی تیزی سے بدل سکتا ہے۔ ڈرائیور کا گاڑی کے اندر ہی بیٹھے رہنے کا فیصلہ درست ثابت ہوا؛ اگر وہ باہر نکلنے کی کوشش کرتا تو یہ حادثہ جان لیوا ثابت ہو سکتا تھا۔
