کراچی: گزری تھانے میں تعینات تین پولیس اہلکاروں کو ایک مبینہ رشوت لینے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد معطل کر دیا گیا۔
وائرل ویڈیو میں مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں کو کلفٹن اور ڈیفنس کی جانب سفر کرنے والے ایک جوڑے کو روک کر ان سے رقم کا مطالبہ کرتے دیکھا اور سنا جا سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ویڈیو میں ایک اہلکار مبینہ طور پر شہری سے 30 ہزار روپے لینے کی بات کرتا ہے اور رقم نہ دینے کی صورت میں قانونی کارروائی اور اگلے روز عدالت میں پیش کیے جانے کا عندیہ دیتا ہے۔
واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد ایس ایس پی ساؤتھ منظور علی نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا اور تینوں اہلکاروں کو معطل کر دیا۔
معطلی کا سامنا کرنے والے اہلکاروں میں کانسٹیبل راجہ خالد محمود، محمد علی اور فیاض حسین شامل ہیں۔
محکمانہ تحقیقات مکمل ہونے تک تینوں اہلکاروں کو گارڈن پولیس ہیڈکوارٹرز کی معطلی کمپنی میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ایس ایس پی ساؤتھ نے ڈیفنس کے ایس ڈی پی او نثار احمد قیمخانی کو انکوائری افسر مقرر کرتے ہوئے وائرل ویڈیو اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کا جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔
انکوائری افسر کو متعلقہ پولیس اہلکاروں اور گواہوں کے بیانات بھی ریکارڈ کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ واقعے میں ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے۔
حکام کے مطابق انکوائری رپورٹ سات روز کے اندر پیش کی جائے گی، جس کی روشنی میں ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف مزید محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
