اسلام آباد، 8 اگست 2026: حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 2.20 روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمت میں 1.50 روپے فی لیٹر کمی کردی، جس سے صارفین کو معمولی ریلیف ملے گا۔
پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 327.62 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 380.86 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ نئی قیمتیں 8 سے 10 اگست تک نافذ العمل رہیں گی۔
حکومت پیٹرول پر 114 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول کررہی ہے۔
حالیہ کمی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب رواں سال عالمی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔ 3 اپریل کو ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 520.35 روپے فی لیٹر کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی تھی، جبکہ اسی روز پیٹرول کی قیمت 458.41 روپے فی لیٹر ریکارڈ کی گئی تھی۔
اس سے قبل پیٹرولیم وزیر علی پرویز ملک نے اعلان کیا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے ایندھن کی قیمتوں کا روزانہ کی بنیاد پر تعین کیا جائے گا۔
حکومت مارچ کے آغاز سے قبل ہفتہ وار بنیادوں پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کرتی رہی ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث تیل کی ممکنہ سپلائی میں رکاوٹ کے خدشے کے پیش نظر ایندھن کی بچت کے اقدامات بھی کیے گئے۔
آل پاکستان ڈیلرز ایسوسی ایشن نے روزانہ قیمتوں کے تعین کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے احتجاجی لائحہ عمل پر غور کرنے کا اعلان کیا تھا۔
پیٹرول بنیادی طور پر نجی گاڑیوں، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں تبدیلی متوسط اور نچلے متوسط طبقے پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل بھاری ٹرانسپورٹ، پاور پلانٹس اور بڑے جنریٹرز میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے، جس کے باعث ڈیزل کی قیمت میں تبدیلی نقل و حمل اور دیگر اخراجات پر بھی اثر ڈالتی ہے۔
پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل حکومت کے لیے آمدنی کے اہم ذرائع ہیں۔ دونوں مصنوعات کی ماہانہ فروخت تقریباً 7 سے 8 لاکھ ٹن ہے، جبکہ مٹی کے تیل کی ماہانہ طلب تقریباً 10 ہزار ٹن ہے۔
