وفاقی حکومت نے معذور افراد کی مالی معاونت کے لیے ’احساس امید کارڈ‘ کا باضابطہ اجرا کر دیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت مستحق افراد کو ماہانہ 5 ہزار روپے وظیفہ دیا جائے گا۔ یہ اقدام محض ایک بار کی امداد کے بجائے طویل مدتی سماجی تحفظ فراہم کرنے کی ایک کوشش ہے، جس کا مقصد معذور افراد کے خاندانوں کو درپیش معاشی مشکلات میں کمی لانا ہے۔
اس پروگرام کی اہلیت کا تعین بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا بیس کے ذریعے کیا گیا ہے۔ درخواست دہندگان کے لیے ضروری ہے کہ وہ نادرا کے پاس رجسٹرڈ ہوں اور ان کے شناختی کارڈ پر معذوری کا سرٹیفکیٹ درج ہو۔ اس ڈیجیٹل انضمام کا مقصد ان دفتری پیچیدگیوں کو ختم کرنا ہے جو اکثر مستحق افراد کو سرکاری وسائل تک رسائی سے روکتی ہیں۔
بہت سے خاندانوں کے لیے 5 ہزار روپے کی رقم طبی اخراجات یا خصوصی آلات کی خریداری کے لیے ناکافی ہو سکتی ہے، تاہم حکومتی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ رقم ایک بنیادی مالی سہارا فراہم کرتی ہے۔ یہ براہ راست نقد رقم کی منتقلی ہے، جو براہِ راست مستحقین کے بینک کھاتوں میں جمع کی جاتی ہے تاکہ کسی بھی قسم کے درمیانی عناصر یا کٹوتیوں کی گنجائش نہ رہے۔
یہ اقدام سماجی بہبود کی رقوم کو ڈیجیٹل تصدیق کے عمل سے گزارنے کے حکومتی رجحان کا حصہ ہے۔ احساس امید کارڈ کو کے انفراسٹرکچر سے منسلک کرنے کے باعث حکومت اس پروگرام کو تیزی سے وسعت دینے کا دعویٰ کر رہی ہے۔ دوسری جانب، ناقدین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل تقسیم ایک بڑی رکاوٹ ہے؛ دیہی علاقوں میں بہت سے درخواست دہندگان کو بائیو میٹرک تصدیق کے عمل کے دوران مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو ان کے اکاؤنٹس کو فعال رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
پروگرام کے اجرا میں شامل وزارت کے ایک ترجمان نے کہا، "ہم صرف ایک فرد کو نہیں دیکھ رہے، بلکہ پورے خاندان کی معیشت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ جب خاندان میں کوئی معذور فرد ہو، تو دیکھ بھال کی ذمہ داریوں کی وجہ سے کمانے کی صلاحیت محدود ہو جاتی ہے۔ یہ وظیفہ اسی مالی نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے ہے۔”
فی الحال یہ پروگرام مختلف اضلاع میں مرحلہ وار شروع کیا جا رہا ہے، جس میں ان علاقوں کو ترجیح دی جا رہی ہے جہاں معذور افراد کی رجسٹریشن سب سے زیادہ ہے۔ شہری اپنی اہلیت جانچنے کے لیے اپنا شناختی کارڈ نمبر کے مخصوص شارٹ کوڈ پر بھیج سکتے ہیں یا اپنے مقامی تحصیل دفتر سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
اگرچہ یہ وظیفہ ایک سہارا ہے، لیکن اس کارڈ کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا حکومت پاکستان کے موجودہ معاشی حالات میں اس فنڈنگ کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھ سکے گی۔ فی الحال، ادائیگیوں کا پہلا سلسلہ مستحقین کے کھاتوں میں پہنچنا شروع ہو گیا ہے، جو ان خاندانوں کے لیے ایک ریلیف ہے جو طویل عرصے سے قومی معیشت کے حاشیے پر تھے۔
