گوگل نے اینڈرائیڈ 15 کے تیسرے بیٹا ورژن میں کوئیک سیٹنگز پینل کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ اس اپ ڈیٹ میں طویل عرصے سے چلے آ رہے دو صفحات پر مشتمل لے آؤٹ کو ختم کر کے ایک کمپیکٹ، ٹائل پر مبنی گرڈ متعارف کرایا گیا ہے، جس کا مقصد صارفین کے لیے ضروری فیچرز تک رسائی کو تیز تر بنانا ہے۔
سب سے نمایاں تبدیلی "ڈبل سوائپ” کی شرط کا خاتمہ ہے۔ اب صارفین ایک ہی اشارے سے مکمل پینل تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، جس سے انٹرفیس کے استعمال میں حائل رکاوٹ کم ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ، برائٹنس سلائیڈر کو بھی نیا ڈیزائن دیا گیا ہے، جو اب پہلے سے زیادہ موٹا ہے اور اسے ایڈجسٹ کرتے وقت بہتر ہیپٹک فیڈ بیک محسوس ہوتا ہے۔
یہ تبدیلی محض ظاہری نہیں بلکہ کارکردگی پر مرکوز ہے۔ لے آؤٹ کو سمیٹ کر گوگل نے اسکرین کی جگہ کو زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ نئی ٹائلز میں اینیمیشن زیادہ رواں ہے، جو پچھلے ڈویلپر پریویوز کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر اور مستحکم محسوس ہوتی ہے۔
تاہم، اینڈرائیڈ کے پرانے صارفین کے درمیان اس لے آؤٹ پر بحث چھڑ گئی ہے۔ نئی ترتیب میں ٹائلز کی کثرت کی وجہ سے پینل قدرے بھرا ہوا محسوس ہوتا ہے، خاص طور پر چھوٹی اسکرین والے فونز پر۔ جو صارفین سادہ اور کشادہ ڈیزائن کے عادی تھے، ان کے لیے یہ گنجان ترتیب کچھ الجھن کا باعث بن سکتی ہے۔
میڈیا پلیئر کو بھی بہتر بنایا گیا ہے۔ اب یہ پینل کے اوپری حصے میں زیادہ صفائی سے موجود ہے، جس سے بیٹا 2 میں پیش آنے والے اوورلیپ کے مسائل ختم ہو گئے ہیں۔ جب میڈیا چل رہا ہو، تو پلیئر خود بخود البم آرٹ کے رنگوں کو اپنا لیتا ہے، جو گوگل کی ‘میٹیریل یو’ ڈیزائن لینگویج کا ایک باریک مگر دیدہ زیب پہلو ہے۔
گوگل کے انجینئرز نے پچھلے "صاف ستھرے” ڈیزائن کے بجائے اب رفتار کو ترجیح دی ہے۔ مزید کنٹرولز کو سامنے لا کر کمپنی کا مقصد مینو میں نیویگیشن کے وقت کو کم کرنا ہے۔ کیا سادگی اور فعالیت کے درمیان یہ سمجھوتہ عام صارفین کے لیے کارآمد ثابت ہوگا؟ اس کا حتمی فیصلہ تو اینڈرائیڈ 15 کے مستحکم ریلیز کے بعد ہی ہو سکے گا۔
اینڈرائیڈ 15 کے حتمی ورژن کی لانچ رواں سال کے آخر تک متوقع ہے۔ فی الحال، پکسل ڈیوائسز استعمال کرنے والے ٹیسٹرز اس تجربے کا حصہ ہیں، اور ان کی جانب سے ملنے والا فیڈ بیک ہی طے کرے گا کہ آیا یہ نئی ٹائلز اسی شکل میں رہیں گی یا حتمی لانچ سے قبل ان میں مزید تبدیلیاں کی جائیں گی۔
