حکومت نے ملک کے کئی حصوں میں خشک سالی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے جس کے بعد پانی کے استعمال پر سخت پابندیاں نافذ کر دی گئی ہیں۔ گرمی کی لہر اور بارشوں میں غیر معمولی کمی کے باعث آبی ذخائر نچلی ترین سطح پر آ چکے ہیں، جس سے شہری اور دیہی علاقوں میں پانی کی فراہمی شدید متاثر ہے۔
نئے احکامات کے تحت گھروں میں پائپ کے ذریعے پودوں کو پانی دینے، گاڑیاں دھونے اور سوئمنگ پول بھرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ واٹر سپلائی کمپنیوں نے تنبیہ کی ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کو بھاری جرمانے ہو سکتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پانی کے ذخائر کو ختم ہونے سے بچانے کے لیے ناگزیر تھا۔
ایک سرکاری ترجمان نے پریس بریفنگ میں کہا کہ ’’ہمیں پانی کی ہر بوند بچانے کی ضرورت ہے، ورنہ آنے والے مہینوں میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔‘‘ تاہم، حکام نے یہ نہیں بتایا کہ یہ پابندیاں کتنے عرصے تک برقرار رہیں گی۔
دوسری جانب، ان پابندیوں پر تنقید بھی سامنے آ رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی کی قلت کی بڑی وجہ بوسیدہ پائپ لائنیں اور ناقص انتظام ہے۔ ملک میں روزانہ لاکھوں گیلن پانی پائپوں کے رساؤ (لیکج) کی وجہ سے ضائع ہو رہا ہے، جبکہ بوجھ عام صارفین پر ڈالا جا رہا ہے۔ شہری تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت سب سے پہلے اپنی بنیادی ڈھانچے کی مرمت پر توجہ دے۔
ماحولیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بارشوں کا سلسلہ جلد شروع نہ ہوا تو نہ صرف زراعت بلکہ انسانی آبادیوں کے لیے پینے کے پانی کا بحران بھی سر اٹھا سکتا ہے۔ دریاؤں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے، جس سے آبی حیات اور مقامی ایکو سسٹم کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
محکمہ موسمیات کی جانب سے فی الحال کسی بڑی بارش کی پیش گوئی نہیں کی گئی ہے۔ شہری اپنے علاقے میں پابندیوں کی تفصیلات جاننے کے لیے متعلقہ واٹر بورڈ کی ویب سائٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ آنے والے دن پانی کے ذخائر اور حکومتی فیصلوں کے لحاظ سے انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔
