کراچی کے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) میں منگل کے روز ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں انتہائی نگہداشت کے وارڈ (آئی سی یو) میں داخلہ نہ ملنے پر 28 سالہ خاتون اور ان کا نوزائیدہ بچہ دم توڑ گئے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر شہر کے سرکاری ہسپتالوں میں طبی سہولیات کے فقدان اور انتظامی غفلت کو بے نقاب کر دیا ہے۔
متاثرہ خاتون کو تشویشناک حالت میں ہسپتال کی ایمرجنسی لایا گیا تھا۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ وہ کئی گھنٹوں تک ہسپتال کے مختلف وارڈز کے چکر کاٹتے رہے لیکن انہیں کہیں جگہ نہیں ملی۔ ہسپتال عملے نے یہ کہہ کر مریضہ کو آئی سی یو میں داخل کرنے سے انکار کر دیا کہ وہاں تمام بیڈز پہلے ہی بھر چکے ہیں اور وینٹی لیٹر دستیاب نہیں ہے۔
خاتون کے بھائی نے ہسپتال کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہم منتیں کرتے رہے کہ کسی طرح میری بہن کو جگہ دے دیں، لیکن انہوں نے ہمیں صرف انتظار کرنے کا کہا۔ میری بہن اور اس کا بچہ اس بیڈ کے انتظار میں دنیا سے چلے گئے جو کبھی خالی ہی نہیں ہوا۔”
جے پی ایم سی کی انتظامیہ کی جانب سے اس واقعے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم ہسپتال کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جناح ہسپتال میں مریضوں کا دباؤ گنجائش سے کہیں زیادہ ہے، جس کے باعث ایمرجنسی میں آنے والے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
کراچی کے سرکاری ہسپتالوں میں آئی سی یو بیڈز کی کمی برسوں پرانا مسئلہ ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے صحت کے بجٹ میں اضافے کے بلند و بانگ دعوے اپنی جگہ، مگر حقیقت یہ ہے کہ جے پی ایم سی اور سول ہسپتال جیسے بڑے مراکز میں بھی مریضوں کو آلات اور عملے کی کمی کے باعث واپس لوٹا دیا جاتا ہے۔
اس واقعے کے بعد لواحقین نے ہسپتال کے باہر احتجاج بھی کیا، جس کے بعد انتظامیہ نے انکوائری کا عندیہ دیا ہے۔ تاہم، شہر کے مکینوں کا ماننا ہے کہ ایسی انکوائریاں اکثر فائلوں تک محدود رہتی ہیں اور ان سے نظام میں بہتری کے آثار کم ہی نظر آتے ہیں۔
منگل کی رات لاشیں ورثا کے حوالے کر دی گئیں۔ ایک ایسے نظام میں جہاں زندگی بچانے کے بنیادی وسائل کا فقدان ہو، وہاں غریب عوام کے لیے ہسپتال کا رخ کرنا اکثر موت کو گلے لگانے کے مترادف بن چکا ہے۔
