بٹ کوائن کی قیمت میں جمعرات کو تیزی دیکھی گئی، جس کے بعد یہ 98 ہزار ڈالر کی سطح کو عبور کر گیا۔ اس تیزی کی بڑی وجہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ‘کلیرٹی فار پیمنٹ اسٹیبل کوائنز ایکٹ’ کی کھل کر حمایت ہے۔ اس اعلان نے امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ڈیجیٹل اثاثوں کے حوالے سے حکومتی رویے میں ممکنہ تبدیلی کا اشارہ دیا ہے، جس کے اثرات کوائن بیس اور مائیکرو اسٹریٹیجی جیسے کرپٹو اسٹاکس پر بھی نمایاں ہیں۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سرمایہ کاروں کو ڈیجیٹل کرنسی کے لیے ایک واضح قانونی فریم ورک کی تلاش تھی۔ ٹرمپ نے بدھ کے روز اپنے بیان میں کہا کہ "ہمیں ایسے فریم ورک کی ضرورت ہے جو جدت کو فروغ دے، نہ کہ اسے سزا دے۔”
مارکیٹ پر اس بیان کا اثر فوری تھا۔ بٹ کوائن کی قدر میں چند گھنٹوں کے اندر 4 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ دیگر بڑی کرپٹو کرنسیوں نے بھی اوپر کی جانب سفر جاری رکھا۔ وال اسٹریٹ کے وہ ادارے جو اب تک ریگولیٹری خدشات کے باعث محتاط تھے، اب اپنی حکمت عملیوں پر نظر ثانی کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ‘کلیرٹی ایکٹ’ وہ قانونی تحفظ فراہم کر سکتا ہے جس کا مطالبہ طویل عرصے سے کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ بل منظور ہوتا ہے تو اسٹیبل کوائنز کی نگرانی ریاستی سطح کے بجائے فیڈرل ریزرو کے پاس چلی جائے گی، جس سے مارکیٹ میں استحکام آنے کی توقع ہے۔
کرپٹو ایکسچینجز کے لیے یہ ایک اہم موڑ ہے۔ کوائن بیس کے شیئرز میں 7 فیصد اضافہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ وفاقی سطح پر قانون سازی سے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے ساتھ جاری قانونی تنازعات ختم ہو سکیں گے۔
تاہم، اس بل کی راہ میں ابھی بھی کانٹے بچھے ہیں۔ سینیٹ میں موجود ناقدین کا مؤقف ہے کہ موجودہ مسودے میں صارفین کے تحفظ کے لیے کافی ضمانتیں موجود نہیں ہیں۔ ڈیموکریٹک قیادت نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ریزرو ضروریات پر سخت شرائط کے بغیر اس بل کی منظوری کی مخالفت کریں گے۔
قانون سازی کے اس تنازع کے باوجود، سیاسی ہوا کا رخ تبدیل ہو چکا ہے۔ سرمایہ کار اب اس نئی حقیقت کو تسلیم کر رہے ہیں کہ واشنگٹن میں ‘ریگولیشن بائی انفورسمنٹ’ یعنی زبردستی قوانین نافذ کرنے کا دور ختم ہو رہا ہے اور ایک صنعت دوست قانون سازی کا دور شروع ہونے کو ہے۔
آیا یہ بل موجودہ سیشن کے اختتام سے قبل کانگریس سے منظور ہو پائے گا یا نہیں، یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ لیکن فی الحال، کرپٹو مارکیٹ کا اعتماد اس بات پر ہے کہ سیاسی حمایت اب ان کے حق میں ہے۔
