پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز کاروبار کے دوران شدید مندی کا رجحان رہا اور بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 1,690 پوائنٹس کی بڑی گراوٹ کے بعد 93,428 پر بند ہوا۔ انڈیکس کا 95,000 کی نفسیاتی حد سے نیچے آنا سرمایہ کاروں میں بے چینی کی بڑی وجہ بنا۔
کاروباری سیشن کے دوران فروخت کا دباؤ اتنا زیادہ تھا کہ بینکنگ، آئل اینڈ گیس، اور فرٹیلائزر جیسے بڑے شعبوں کے حصص تیزی سے نیچے آئے۔ سرمایہ کاروں نے منافع خوری کے بجائے اپنے اثاثے فروخت کرنے کو ترجیح دی، جس سے مارکیٹ میں گھبراہٹ کا عالم رہا۔
اس مندی کی بنیادی وجہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے اصلاحاتی پروگرام اور ٹیکس اقدامات پر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ حالیہ ریکارڈ ساز تیزی کے بعد مارکیٹ میں کریکشن (تصحیح) ناگزیر تھی، لیکن گراوٹ کی رفتار نے حکومتی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کے فقدان کو واضح کر دیا ہے۔
کراچی کے ایک بروکریج ہاؤس کے سربراہ نے کہا، "مارکیٹ ضرورت سے زیادہ خریداری کے زون میں تھی، مگر آج کی گراوٹ یہ بتاتی ہے کہ سرمایہ کار اب مزید رسک لینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔”
غیر ملکی سرمایہ کاروں کی عدم دلچسپی اور گردشی قرضوں کے مسائل نے بھی مارکیٹ کے جذبات کو ٹھنڈا رکھا۔ جو سرمایہ کار حالیہ تیزی کے دوران مارکیٹ میں داخل ہوئے تھے، وہ اب اپنے کاغذات پر نقصانات دیکھ کر مزید پریشان ہیں، جس سے فروخت کا دباؤ مزید بڑھ رہا ہے۔
کے ایس ای-100 انڈیکس کے لیے اب 93,000 کی سطح ایک اہم امتحان ہے۔ اگر بدھ کے روز مارکیٹ اس سطح کو برقرار نہ رکھ سکی تو انڈیکس کے 91,000 پوائنٹس کی طرف جانے کا خدشہ موجود ہے۔ فی الحال مارکیٹ کی کمان مکمل طور پر بیئرز (گرانے والوں) کے ہاتھ میں دکھائی دیتی ہے۔
