نئی دہلی میں حکومتی ایوانوں میں اس وقت خوردنی تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قابو کرنے کے لیے اہم مشاورت جاری ہے۔ وزارت خزانہ اور وزارتِ صارفین کے حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا درآمدی ڈیوٹی میں کٹوتی کرکے عام آدمی کو ریلیف فراہم کیا جائے یا نہیں۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں زیر غور ہے جب گزشتہ تین ماہ سے ملک میں خوردنی تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پام، سویا بین اور سورج مکھی کے تیل کی عالمی منڈی میں بڑھتی قیمتوں کا براہِ راست اثر بھارتی کچن پر پڑ رہا ہے، جس سے مہنگائی کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "حکومت قیمتوں کے رجحان پر روزانہ کی بنیاد پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ ڈیوٹی میں کمی ایک آپشن ضرور ہے، لیکن ہمیں مقامی کسانوں کے مفادات کا بھی خیال رکھنا ہوگا جو اس وقت فصل کی کٹائی کے عمل سے گزر رہے ہیں۔”
یہاں حکومت کے لیے توازن قائم کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایک طرف شہروں میں بسنے والے وہ صارفین ہیں جو مہنگائی سے تنگ ہیں، اور دوسری طرف وہ کسان ہیں جنہیں سستی درآمدات کی وجہ سے اپنی فصل کی مناسب قیمت نہ ملنے کا خوف ہے۔ اگر حکومت ڈیوٹی کم کرتی ہے تو مقامی منڈی میں قیمتیں گر سکتی ہیں، جس سے کسانوں کی جانب سے احتجاج کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
بھارت اپنی خوردنی تیل کی ضرورت کا تقریباً 60 فیصد حصہ درآمد کرتا ہے۔ موجودہ ٹیکس ڈھانچے کے تحت سویا بین اور سورج مکھی کے خام تیل پر کل ٹیکس 27.5 فیصد تک بنتا ہے، جبکہ پام آئل پر یہ شرح 5.5 فیصد ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر کمی کی گئی تو وہ ‘ٹارگٹڈ’ ہوگی، یعنی صرف ان تیلوں پر ٹیکس کم کیا جائے گا جن کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
ممبئی کے ایک کموڈٹی ٹریڈر کے مطابق، "حکومت کے پاس چال چلنے کے لیے بہت کم گنجائش بچی ہے۔ اگر ڈیوٹی کم کی تو کسانوں کا غصہ، اور اگر نہیں کی تو عام شہری کی ناراضی۔”
حکومت کی جانب سے حتمی فیصلہ رواں ماہ کے آخر تک متوقع ہے۔ اس وقت تک بازاروں میں غیر یقینی کی صورتحال ہے، اور سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ نئی دہلی کچن کے بجٹ کو ترجیح دیتی ہے یا کسانوں کے مفاد کو۔
