پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے 26ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والے پانچ ارکانِ قومی اسمبلی کو پارٹی سے فوری طور پر نکال دیا ہے۔ پی ٹی آئی نے اسے وفاداری، حلف اور پارلیمانی نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
نکالے گئے ارکان یہ ہیں:
-
اورنگزیب خان کھچی
-
ظہور الٰہی
-
عثمان علی
-
مبارک زیب
-
محمد الیاس چوہدری
پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق، پی ٹی آئی نے 2 ستمبر 2024 کو ہونے والے پارلیمانی اجلاس میں 26ویں ترمیم کی مخالفت کا فیصلہ کیا تھا، جسے 5 ستمبر کو اسپیکر کو بھی آگاہ کیا گیا تھا۔ تاہم، 21 اکتوبر کو ان ارکان نے ترمیم کے حق میں ووٹ دے کر حکومت کو مطلوبہ 224 میں سے 225 ووٹ دلوا دیے۔
پی ٹی آئی نے ان ارکان کو شو کاز نوٹس بھی جاری کیے، مگر کسی نے جواب نہیں دیا۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ یہ ارکان خزانے کے بینچوں پر بیٹھ کر حکومتی پارٹی کا حصہ بن چکے ہیں۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ان ارکان نے پارٹی وفاداری توڑ کر دوسری جماعت کا ساتھ دیا ہے، جو کہ آئین کے آرٹیکل 63A کے تحت نااہلی کی بنیاد ہے۔ پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے ان کی نااہلی کے لیے کارروائی کی درخواست کر دی ہے۔
یاد رہے کہ 26ویں آئینی ترمیم میں عدالتی نظام میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں، جن میں ججز کی تعیناتی، چیف جسٹس کی مدت، اور جوڈیشل کمیشن کی تشکیل شامل ہیں۔
