بلوچستان میں مبینہ طور پر غیرت کے نام پر ایک عورت اور مرد کے سفاکانہ قتل کی دل دہلا دینے والی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔ یہ واقعہ ان کئی المناک واقعات میں سے ایک ہے، جہاں بے گناہ عورتوں کو خاندان یا برادری کی عزت کے نام پر موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر میاں محمد رؤف عطا نے واقعے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ سفاکیت انسانیت، قانون اور آئین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ بار بلوچستان میں ایک معصوم اور بے گناہ خاتون کے بہیمانہ قتل کی پرزور مذمت کرتی ہے۔ یہ واقعہ ہمارے معاشرے میں موجود اس گھناؤنے رویے کی عکاسی کرتا ہے جو خواتین کو عزت کے جھوٹے تصور کی بھینٹ چڑھاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ غیرت کے نام پر قتل کا نہ تو کسی ثقافت، مذہب یا روایتی سماج سے کوئی تعلق ہے، اور نہ ہی یہ کسی قانونی یا آئینی جواز کے تحت قابلِ قبول ہے۔ ایسے افعال خواتین کے خلاف بدترین تشدد کی نمائندگی کرتے ہیں اور معاشرتی پسماندگی کی علامت ہیں۔
بار ایسوسی ایشن کے اعلامیے میں کہا گیا کہ کسی فرد یا گروہ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ خود کو منصف، جیوری اور جلاد بنالے۔ انصاف صرف ریاست کا حق ہے، اور ایسے اقدامات ریاست کی عملداری کو کھلا چیلنج دیتے ہیں۔
اعلامیے میں حکومتِ بلوچستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس افسوسناک واقعے کے تمام ذمہ داران کو فوری گرفتار کریں اور انہیں عبرتناک سزا دلوا کر مثال قائم کریں تاکہ آئندہ کوئی اس قسم کے ظلم کا سوچ بھی نہ سکے۔
یہ مسئلہ صرف ایک جرم کا نہیں، بلکہ قومی شعور اور سماجی اصلاحات کا معاملہ ہے۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ ایسے خطرناک نظریات کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرے تاکہ معاشرے میں خواتین کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
