کراچی: پاکستان تیزی سے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence – AI) کو اپنانے والے ممالک میں شامل ہو گیا ہے اور ایک حالیہ سروے کے مطابق دنیا بھر میں اے آئی ٹولز کے استعمال میں چوتھے نمبر پر ہے۔ یہ سروے شوارٹز ریزمین انسٹیٹیوٹ فار ٹیکنالوجی این سوسائٹی نے کیا، جس کے مطابق پاکستان میں اے آئی کا بڑھتا ہوا استعمال معیشت اور روزگار کے ڈھانچے کو بدل رہا ہے، لیکن ساتھ ہی اس نے فوری طور پر اخلاقی پالیسیوں اور حفاظتی اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔
یہ تحقیق 21 ممالک پر مشتمل تھی۔ اس میں بتایا گیا کہ پاکستانی عوام بڑی حد تک اے آئی کے بارے میں پرامید ہیں۔ تقریباً 26 فیصد افراد نے اپنی رائے کو "بہت مثبت” کہا، جب کہ 39 فیصد نے "کافی مثبت” کہا۔ صرف 13 فیصد نے منفی رائے کا اظہار کیا۔ پاکستان سے زیادہ مثبت رویہ صرف بھارت، کینیا اور برازیل میں دیکھا گیا۔
ماہرین کے مطابق ترقی پذیر معیشتیں جیسے پاکستان، اے آئی کو روزگار کے مواقع، معاشی ترقی اور عوامی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے ایک راستہ سمجھتی ہیں۔ لیکن وہ خبردار کرتے ہیں کہ اے آئی پر حد سے زیادہ انحصار روایتی ملازمتوں کے خاتمے اور تنقیدی سوچ کی کمزوری کا باعث بن سکتا ہے۔ سی آئی او گلوبل 200 سمٹ میں انٹیگریشن ایکسپرٹس کے سی ای او عمیر اعظم نے کہا کہ "اے آئی کارکردگی کو بہتر بنا سکتی ہے، لیکن اس کے غلط استعمال سے اعتماد اور آزاد سوچ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔”
پاکستان کا اے آئی کا سفر صرف استعمال تک محدود نہیں بلکہ اس نے اپنی مقامی زبانوں میں دستیاب ایک مقامی چیٹ بوٹ، ’ذہانت اے آئی‘ بھی تیار کیا ہے۔ اس کی شریک بانی مرویش سلمان علی نے اس بات پر زور دیا کہ شہریوں کو اے آئی مہارتوں سے لیس کرنا ضروری ہے، ورنہ پاکستان کی 22 کروڑ 40 لاکھ کی آبادی "غیر استعمال شدہ اثاثہ” بن کر رہ جائے گی۔یونیسکو کے حالیہ مکالمے "اے آئی برائے انسانیت: پاکستان میں اخلاقی اور شمولیتی اے آئی” میں اکیڈمیا، سول سوسائٹی، نجی شعبے اور حکومت کے 25 سے زائد اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی، تاکہ قومی اے آئی پالیسی تشکیل دی جا سکے۔ تمام فریقین کا متفقہ مؤقف یہ تھا کہ پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کے لیے اخلاقی اور شمولیتی اے آئی لازمی ہے۔
ملک میں 14 کروڑ 60 لاکھ سے زائد براڈ بینڈ صارفین کے ساتھ، پاکستان میں اے آئی کے فروغ کی وسیع گنجائش موجود ہے۔ لیکن پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (P@SHA) کے سروے سے پتا چلتا ہے کہ کئی کمپنیاں پہلے ہی بھرتیاں کم کر رہی ہیں کیونکہ آٹومیشن بعض کردار سنبھال رہی ہے، جس نے روزگار کے تحفظ، مہارتوں کے فروغ اور طویل مدتی سماجی اثرات پر خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
اس کے برعکس، امریکہ، فرانس اور آسٹریلیا جیسے ترقی یافتہ ممالک میں اے آئی کے بارے میں زیادہ شکوک پائے جاتے ہیں۔ امریکہ میں 34 فیصد جواب دہندگان نے "کافی یا بہت منفی” رائے دی، جن کی بڑی وجہ غلط معلومات، سیاسی تقسیم اور سفید پوش ملازمتوں کے خطرات تھے۔
اگرچہ پاکستانی عوام اب بھی اے آئی کے امکانات کے بارے میں پُرامید ہیں، لیکن ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جدت اور ذمہ داری کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے مضبوط پالیسی فریم ورک اور "اے آئی چیمپئنز” کی فوری ضرورت ہے۔
