اسلام آباد — وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ نورین نیازی کے خلاف پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ یہ کارروائی آن لائن تنقید کرنے والوں کے خلاف ریاستی کریک ڈاؤن کے سلسلے کی ایک اور کڑی ہے۔
بدھ کی رات درج کی گئی ایف آئی آر میں نورین نیازی پر "نفرت انگیز تقاریر” اور سوشل میڈیا کے ذریعے "عوامی انتشار پھیلانے” کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ تفتیشی حکام کا دعویٰ ہے کہ نیازی کی حالیہ سوشل میڈیا سرگرمیاں قانونی حدود سے تجاوز کر چکی ہیں، تاہم قانونی ماہرین ان الزامات کی نوعیت اور ایف آئی آر میں درج مواد پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
نورین نیازی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ ان کی آواز دبانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔ ان کے مطابق، پیکا کی مبہم شقوں کو اکثر ان ناقدین کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے جو حکومتی پالیسیوں پر کھل کر بات کرتے ہیں۔
ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے مبینہ طور پر ڈیجیٹل شواہد اکٹھے کر لیے ہیں، جن میں ان کی حالیہ ویڈیوز اور سوشل میڈیا پوسٹس شامل ہیں۔ حکام نے کیس کی تفصیلات کو تاحال خفیہ رکھا ہوا ہے، تاہم تصدیق کی ہے کہ انہیں اسلام آباد میں قائم ہیڈ کوارٹرز میں تفتیشی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے لیے سمن جاری کر دیا گیا ہے۔
اس کیس پر نظر رکھنے والے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عوامی انتشار پھیلانے کی دفعات کافی سنگین ہیں اور پیکا کے تحت جرم ثابت ہونے پر کئی سال قید اور بھاری جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔
کیس کی پیروی کرنے والے ایک وکیل نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "مقدمے کے اندراج کا وقت بہت اہم ہے۔ جس تیزی سے یہ کارروائی کی گئی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کے واضح احکامات تھے۔”
نورین نیازی کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ ان کی قانونی ٹیم اسلام آباد ہائی کورٹ میں عبوری ضمانت کی درخواست دائر کرنے کی تیاری کر رہی ہے تاکہ گرفتاری سے بچا جا سکے۔
یہ پیش رفت پاکستان میں ڈیجیٹل اظہارِ رائے کی آزادی کے حوالے سے ایک اور بڑا امتحان ثابت ہوگی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عدالتیں اس معاملے کو کس زاویے سے دیکھتی ہیں اور کیا یہ کیس آزادیِ اظہار کے حق میں ایک قانونی نظیر بنے گا یا پھر حکومتی دباؤ کا شکار ہو جائے گا۔
