پاکستان نے ڈیجیٹل تعلیم کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے اسکولوں میں کوڈنگ اور کمپیوٹر سائنس کو لازمی مضامین کے طور پر متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی، پروگرامنگ اور ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے تاکہ وہ مستقبل کے تقاضوں کے مطابق بہتر مواقع حاصل کر سکیں۔
تعلیمی حکام کے مطابق نئے نصاب کے تحت طلبہ کو ابتدائی درجات سے ہی کمپیوٹر سائنس اور کوڈنگ کے بنیادی تصورات سکھائے جائیں گے، جبکہ اعلیٰ درجات میں پروگرامنگ، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز سے متعلق مضامین شامل کیے جائیں گے۔
ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں تیزی سے بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کے پیش نظر طلبہ کو کم عمری سے ہی ٹیکنالوجی سے روشناس کرانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام نہ صرف نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دے گا بلکہ انہیں مستقبل کی ملازمتوں اور کاروباری مواقع کے لیے بھی بہتر طور پر تیار کرے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے تحت اساتذہ کی تربیت، جدید کمپیوٹر لیبارٹریوں کا قیام اور ڈیجیٹل تعلیمی وسائل کی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے گی تاکہ ملک بھر کے طلبہ یکساں تعلیمی مواقع سے مستفید ہو سکیں۔
ماہرین نے اس فیصلے کو پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی اور علمی ترقی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے نوجوان نسل عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے میدان میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکے گی۔
