مغربی کنارہ: فلسطینی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیلی آبادکاروں نے اتوار کی صبح مقبوضہ مغربی کنارے میں دو مساجد کو آگ لگا دی، جس سے ان عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب علاقے میں حالیہ دنوں میں تشدد میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
فلسطینی حکام کے مطابق نابلس کے جنوب میں واقع قصرہ (Qusra) قصبے میں زیرِ تعمیر ایک مسجد کے داخلی حصے کو نذرِ آتش کیا گیا جبکہ دیواروں پر عبرانی زبان میں نعرے بھی لکھے گئے، جن میں "بدلہ” کا لفظ بھی شامل تھا۔ اسی دوران طولکرم کے قریب کور (Kour) گاؤں میں واقع ایک اور مسجد کو بھی نشانہ بنایا گیا، تاہم مقامی افراد نے بروقت آگ بجھا کر بڑے نقصان سے بچا لیا۔
اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ قصرہ میں مسجد میں آگ لگنے کی اطلاع موصول ہونے پر فوجی موقع پر پہنچے، جہاں آگ لگنے اور دیواروں پر تحریریں درج ہونے کے شواہد ملے۔ فوج کے مطابق واقعے کی تحقیقات اسرائیلی پولیس کر رہی ہے۔
یہ واقعہ اس ہفتے مغربی کنارے کے گاؤں تل کے قریب ہونے والے خونریز تصادم کے بعد پیش آیا، جس میں چار فلسطینی اور دو اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے مغربی کنارے میں آبادکاروں کے حملوں، فوجی کارروائیوں اور جھڑپوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
فلسطینی حکام نے مساجد پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ شہریوں اور مذہبی مقامات کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، جبکہ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔
