سینیٹر علی ظفر نے میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا آج مکمل ہونا جمہوریت کے لیے خوش آئند پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب پارلیمنٹ کی عزت ہوگی تو ہی جمہوری عمل آگے بڑھے گا اور مسائل کا حل بھی پارلیمنٹ کے اندر سے ہی نکلنا چاہیے۔
سینیٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر کی تقریر ایک مثبت اشارہ ہے اور اب دیکھنا ہوگا کہ حکومت اس کا کس طرح جواب دیتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کا مینڈیٹ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو دیا گیا ہے، جبکہ مذاکرات کے لیے سازگار ماحول بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت تشدد بند کرے تو ڈائیلاگ آگے بڑھ سکتا ہے۔ سینیٹر علی ظفر کے مطابق بنیادی انسانی حقوق پوری قوم اور پاکستان تحریک انصاف کو ملنے چاہئیں اور آئین و قانون کی بالادستی کے بغیر مذاکرات ممکن نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پرامن احتجاج آئینی حق ہے اور حکومت کو یہ حق دینا ہوگا۔ سینیٹر علی ظفر نے اعلان کیا کہ 8 تاریخ کو ملک بھر میں احتجاج کیا جائے گا، جس کے تحت پاکستان بھر میں شٹر ڈاؤن احتجاج ہوگا، تاہم اس دن دھرنا نہیں دیا جائے گا بلکہ صرف پرامن احتجاج کیا جائے گا۔
