کراچی: موسلا دھار مون سون بارشوں نے بدھ کو بھی شہر کو مفلوج کیے رکھا، جس کے نتیجے میں بارش سے متعلقہ واقعات میں ہلاکتوں کی تعداد 17 تک جا پہنچی۔ شدید بارشوں سے شہری سیلاب، بجلی کی طویل بندش اور آمدورفت کا نظام درہم برہم ہوگیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق گلشنِ حدید اور یونیورسٹی روڈ سمیت کئی علاقوں میں 24 گھنٹوں کے دوران 170 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی۔ نالوں کے ابلنے اور سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک بری طرح متاثر ہوا، جبکہ کارساز، ملیر ہالٹ، اولڈ سٹی ایریا، آرام باغ اور سندھ ہائی کورٹ کے اطراف آج بھی پانی کھڑا رہا۔
بارشوں نے قیمتی جانیں بھی نگل لیں، جن میں بچے اور ایک خاتون شامل ہیں۔ ایک افسوسناک واقعے میں 70 سالہ معذور شخص اپنے گھر کے اندر جمع بارش کے پانی میں گر کر جاں بحق ہوگیا۔
بجلی کا بحران بھی شدت اختیار کرگیا، 550 سے زائد فیڈرز بند ہوگئے۔ اگرچہ کے-الیکٹرک نے تقریباً 2000 فیڈرز بحال کردیے ہیں، لیکن 240 سے زائد تاحال بند ہیں، جس کے باعث گلستانِ جوہر، کورنگی اور ڈی ایچ اے سمیت کئی علاقے 24 گھنٹے سے زائد بجلی سے محروم ہیں۔
بارشوں کے باعث جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشنز بھی متاثر ہوئے۔ عملہ نہ پہنچنے کے باعث متعدد اندرونِ ملک پروازیں منسوخ جبکہ بین الاقوامی پروازوں میں تاخیر ہوئی۔ سندھ ہائی کورٹ نے شہر کی سنگین صورتحال کے پیش نظر تمام عدالتوں کو بند کرنے کا حکم دیا۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے آنے والی مضبوط مون سون ہوائیں آئندہ دنوں میں مزید بارش برسا سکتی ہیں۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے اعتراف کیا کہ شہر کا نکاسی نظام صرف 40 ملی میٹر بارش برداشت کرسکتا ہے، جو حالیہ بارشوں کے حجم سے کہیں کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقل بنیادوں پر انفراسٹرکچر میں بہتری کے بغیر شہر کو مستقبل میں مزید مشکلات کا سامنا ہوگا۔
