پاکستان میں نوجوان ڈاکٹرز کی بےروزگاری ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے جس کے باعث ہزاروں ڈاکٹرز عارضی اور غیر مستحکم ملازمتوں کے لیے بھی تیار ہیں۔
ذرائع کے مطابق محکمہ صحت نے حال ہی میں فیلڈ میں فی گھنٹہ اجرت پر 1200 ڈاکٹروں کی بھرتی کے لیے درخواستیں طلب کیں جبکہ ان نشستوں کے لیے 26 ہزار درخواستیں موصول ہوئیں۔ اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ مستقل روزگار کے مواقع نہ ہونے کے باوجود ہزاروں ڈاکٹرز عارضی اور غیر مستحکم ملازمتوں کے لیے بھی تیار ہیں۔
مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ درخواست گزاروں میں 600 ایسے نوجوان ڈاکٹرز بھی شامل تھے جو ایف سی پی ایس، ایم ڈی اور ایم ایس جیسی اعلیٰ ڈگریاں رکھتے ہیں، لیکن پھر بھی بےروزگار ہیں۔ یہ صورتحال ناقص پلاننگ اور مربوط پالیسی کے فقدان کا نتیجہ ہے۔
اگر اس مسئلے کو حل نہ کیا گیا تو نہ صرف نوجوان ڈاکٹرز کی صلاحیتیں ضائع ہوں گی بلکہ عوام کو معیاری صحت کی سہولتیں بھی میسر نہیں آ سکیں گی۔ یہ مسئلہ صرف روزگار کا نہیں بلکہ صحت کے نظام کی مجموعی کمزوری کا آئینہ دار ہے، جسے فوری اور سنجیدہ توجہ کی ضرورت ہے۔
