نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے چھوٹے پیمانے پر سولر انرجی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے جنریشن لائسنس اور اس سے منسلک فیس کا خاتمہ کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد گھریلو صارفین اور چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے سولر سسٹم کی تنصیب میں حائل بیوروکریٹک رکاوٹوں کو دور کرنا اور قابلِ تجدید توانائی کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔
اب 25 کلو واٹ تک کے سولر سسٹم لگانے والے صارفین کو لائسنس کے حصول کے لیے لمبی اور پیچیدہ کارروائی سے نہیں گزرنا پڑے گا۔ ماضی میں، چھوٹے پیمانے کی تنصیبات کے لیے بھی باضابطہ منظوری لینا ضروری تھی، جس کے باعث بہت سے گھرانے سولر سسٹم لگانے سے گریزاں تھے۔ اس شرط کے خاتمے سے اب صارفین کے لیے گرڈ کے ساتھ سسٹم کو منسلک کرنا آسان ہو جائے گا۔
یہ فیصلہ محض کاغذی کارروائی کم کرنے تک محدود نہیں، بلکہ یہ بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں اور صارفین کی بڑھتی ہوئی مشکلات کا براہ راست ردعمل ہے۔ درمیانے طبقے کے لیے لائسنس کی فیس اور منظوری کے حصول میں لگنے والا وقت اکثر سولر سسٹم کی تنصیب میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتا تھا۔ اب یہ مالی اور انتظامی بوجھ ختم ہونے سے ہزاروں گھرانوں کے لیے سولر پینلز اور انورٹرز میں سرمایہ کاری کرنا زیادہ آسان ہوگا۔
ایک سرکاری ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم عام شہری کے لیے ہر غیر ضروری رکاوٹ کو ہٹانا چاہتے ہیں۔” اس پالیسی کا بنیادی مقصد بجلی کی پیداوار کو وکندریقرت (decentralize) کرنا ہے، تاکہ صارفین نہ صرف اپنی بجلی خود پیدا کر سکیں بلکہ اضافی بجلی نیشنل گرڈ کو فراہم کر کے ‘پروزیومر’ بن سکیں۔
لائسنسنگ ختم ہونے کے باوجود حفاظتی معیارات برقرار رہیں گے۔ نیپرا نے واضح کیا ہے کہ انتظامی بوجھ ہٹانے کا مطلب معیار پر سمجھوتہ نہیں ہے۔ گرڈ سے منسلک سسٹمز کو اب بھی تکنیکی اور حفاظتی پروٹوکولز کی پاسداری کرنا ہوگی۔ ریگولیٹر کو توقع ہے کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیاں (ڈسکو) نیٹ میٹرنگ کے عمل کو مزید شفاف اور تیز بنائیں گی تاکہ درخواست سے کنکشن تک کا عمل مہینوں کے بجائے دنوں میں مکمل ہو۔
یہ پالیسی تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب قومی گرڈ سرکلر ڈیٹ اور بوسیدہ انفراسٹرکچر کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ بہت سے صارفین کے لیے چھتوں پر سولر سسٹم ہی واحد ریلیف بچا ہے۔ حکومتی سطح پر اس سہولت کے بعد اب یہ توقع کی جا رہی ہے کہ نجی شعبے کی سولر میں سرمایہ کاری سے قومی پاور سسٹم پر دباؤ میں کچھ کمی آئے گی۔
تاہم، اس اقدام کی کامیابی کا دارومدار ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے رویے پر ہے۔ اگر مقامی سطح پر بیوروکریسی کا وہی پرانا نظام برقرار رہا تو یہ پالیسی محض کاغذی حد تک محدود رہے گی۔ فی الحال، یہ فیصلہ پاور سیکٹر کے ان صارفین کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے جو طویل عرصے سے سخت اور مہنگے ضوابط کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے۔
