کراچی: حکومتِ سندھ نے ایڈاپٹیو سوشل پروٹیکشن (اے ایس پی) منصوبے کی تیسری پروجیکٹ اسٹیئرنگ کمیٹی (پی ایس سی) اجلاس کی صدارت منصوبہ بندی و ترقی کے محکمے، سندھ سیکریٹریٹ میں کی، جس میں حکومتِ سندھ، یورپی یونین اور جرمن ادارے جی آئی زیڈ کے اعلیٰ نمائندوں نے شرکت کی۔
یہ منصوبہ جی آئی زیڈ کے ذریعے یورپی یونین اور جرمن وفاقی وزارت برائے اقتصادی تعاون و ترقی (بی ایم زیڈ) کے تعاون سے نافذ کیا جا رہا ہے۔
اجلاس کی صدارت چیئرمین منصوبہ بندی و ترقی بورڈ سندھ نجم شاہ نے کی، جس میں مجموعی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور صوبے میں موسمیاتی لحاظ سے مضبوط اور پیشگی سماجی تحفظ نظام کو بہتر بنانے پر بات چیت ہوئی۔
اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے ایک جامع، پائیدار اور قابل توسیع سماجی تحفظ کا نظام قائم کیا جائے گا۔
یورپی یونین کے ہیڈ آف کوآپریشن جیرون ولیمز نے کہا کہ کامیابی کے لیے اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی ضروری ہے تاکہ تمام ادارے ایک دوسرے کی کوششوں کو مضبوط بنا سکیں۔
منصوبے کے تحت سماجی تحفظ کی پالیسی، ڈیجیٹل اور مالی خواندگی، ڈیٹا سسٹمز کی ہم آہنگی، آفات کی تیاری اور موسمیاتی لچک کے شعبوں میں پیش رفت رپورٹ کی گئی۔
نجم شاہ نے کہا کہ محکموں کے درمیان مضبوط رابطہ اور ادارہ جاتی ملکیت نظام کی مؤثر اور طویل مدتی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔
جی آئی زیڈ کی سربراہ جوہانا کنیس نے کہا کہ صوبائی سطح پر سماجی تحفظ کی پالیسی کو حتمی شکل دینے کا ہدف ستمبر 2026 تک رکھا گیا ہے۔
اجلاس میں وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان ڈیٹا سسٹمز کی ہم آہنگی میں پیش رفت کو بھی اہم قرار دیا گیا۔
پائلٹ منصوبوں میں سندھ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کے تحت غیر رسمی ورکرز کا رجسٹر، خواتین زرعی ورکرز پروگرام، اور ٹھٹھہ میں نقد برائے کام منصوبہ شامل ہیں، جو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں لچک پیدا کرنے کے لیے شروع کیے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق یہ منصوبے مستقبل میں بڑے پیمانے پر پالیسی اور مالیاتی نظام میں شامل کرنے کے لیے بنیاد فراہم کریں گے۔
